وہ عام ترین عادات جو 172 امراض سے متاثر کرنے کا خطرہ بڑھاتی ہے

آپ کے روزمرہ کی ایک عام عادت آپ کو ایک، 2 یا درجن بھر نہیں بلکہ 172 امراض کا شکار بنا سکتی ہے۔
جی ہاں واقعی ہر رات سونے کے وقت کا کوئی وقت مقرر نہ ہونے سے ذیابیطس اور گردوں کے امراض سمیت 172 امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
خیال رہے کہ برسوں سے طبی ماہرین کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے کہ نیند کی کمی یا بہت زیادہ وقت تک سونے سے امراض قلب، ڈپریشن اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جرنل ہیلتھ ڈیٹا سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دورانیے کے مقابلے میں سونے کا کوئی وقت مقرر نہ ہونا صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔
اس تحقیق میں لگ بھگ 90 ہزار بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔
ان افراد کو فٹنس ٹریکرز پہنا کر نیند کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور پھر ان کی صحت کو 7 سال سے زائد عرصے تک ٹریک کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیشتر افراد کا دعویٰ تھا کہ وہ 8 گھنٹے سے زیادہ وقت تک سوتے ہیں، مگر ان کی نیند کا حقیقی دورانیہ 6 گھنٹے یا اس سے بھی کم تھا۔
تحقیق کے مطابق لوگوں کی جانب سے نیند کے دورانیے کی غلط تفصیلات کے باعث پرانی تحقیقی رپورٹس کے نتائج متاثر ہوئے۔
تحقیق کے دوران ٹریکرز سے حاصل کیے گئے ڈیٹا سے محققین کو نہ صرف یہ جاننے میں مدد ملی کہ لوگ کتنے گھنٹے سوتے تھے بلکہ یہ معلوم ہوا کہ ان کی نیند کا معیار کیا تھا اور وہ کس وقت سونے کے عادی تھے۔
ڈیٹا سے انکشاف ہوا کہ اگر نیند کے سونے کا کوئی وقت یا شیڈول نہ ہو یا تسلسل نہ ہو تو اس سے 172 امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہر ہفتے کوئی فرد 3 راتوں کو مختلف اوقات میں سوتا ہے تو اس سے جسمانی کمزوری کا خطرہ 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح پارکنسن امراض کا خطرہ 37 فیصد، ذیابیطس ٹائپ 2 کا 36 فیصد جبکہ گردے فیل ہونے کا خطرہ 22 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق 92 امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ ہر رات کو ایک ہی وقت سونے سے 20 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیند کا کوئی شیڈول نہ ہونے سے خون کے سفید خلیات اور دیگر پروٹینز کی سطح بڑھتی ہے جس سے دائمی ورم کا سامنا ہوتا ہے اور مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ تحقیق کسی حد تک محدود ہے کیونکہ اس میں صرف ایک ہفتے کی نیند کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تو نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔



