
کوئٹہ: بلوچستان تعلیمی بورڈ میں بڑے پیمانے پر امتحانی ریکارڈ میں ہیرا پھیری کا انکشاف ، انسداد بدعنوانی کی کارروائی، دو اہلکار گرفتار، مزید گرفتاریاں متوقع
بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BBISE) میں امتحانی ریکارڈ میں سنگین ہیرا پھیری اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ انسداد بدعنوانی بلوچستان نے کارروائی کرتے ہوئے آئی ٹی برانچ کے دو اہلکاروں کو گرفتار کرلیا، جب کہ مزید افراد کی گرفتاری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران جاری شدہ ڈی ایم سیز اور ایوارڈ لسٹس میں واضح تضادات سامنے آئے، جنہیں مبینہ طور پر مالی فوائد، اقربا پروری اور دیگر ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس انکوائری میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن قمبر بلوچ، محمد سفیان، انسپکٹر زبیر احمد، اور آئی ٹی ماہرین سیف اللہ (ڈائریکٹر آئی ٹی، پی پی پی آر اے) و نیاز محمد (ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی، بی یو ایم ایچ ایس) نے اہم کردار ادا کیا، جب کہ معاون عملے میں محمد اویس (سسٹم اینالسٹ)، وسیم نور (کمپیوٹر پروگرامر) اور محمد خالد (آئی ٹی مینیجر) شامل تھے۔
انسداد بدعنوانی کے ڈائریکٹر جنرل عبدالواحد کاکڑ کے احکامات پر کارروائی کرتے ہوئے سسٹم اینالسٹ محمد اویس اور کمپیوٹر پروگرامر وسیم نور کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
محکمہ کے مطابق معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے اور مزید افسران و اہلکاروں کی گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے انسداد بدعنوانی کی اس بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے تعلیمی اداروں میں شفافیت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف طلبہ اور والدین کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ بدعنوان عناصر کو یہ واضح پیغام جائے گا کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں



