آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملےگی، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہےکہ آج فوج نے عملی طور پر ثابت کیا ہےکہ سب کو احتساب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آج کی سزا کے بعد ثاقب نثار ہو یا بانی پی ٹی آئی سب کو سزا ملےگی۔
جیو نیوز سے گفتگو میں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد ہماری عدلیہ کو بھی چاہیےکہ تیزی سے انصاف کے تقاضے پورےکرے، 9 مئی کے فیصلے کب ہوں گے کیا قیامت والے دن ہوں گے؟
طلال چوہدری سے سوال کیا گیا کہ کیا جنرل باجوہ بھی اس گروپ کا حصہ تھے؟ اور کیا انہیں بھی سزا ملی چاہیے؟
اس پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ اس ادارے نے ایک تگڑا احتساب کرکے بتا دیا ہے وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کوئی کتنا ہی طاقتور عہدہ پر رہا ہو، کوئی غیر آئینی غیرقانونی کام کرے گا تو اسے سامنا کرنا پڑےگا، وہ ادارہ جسے کہتے تھے کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، اس نے آج ایک مثال قائم کی ہے، باقی کب کریں گے؟
یہ بھی پڑھیں
فیض حمیدکو سزا ایک ادارےکا اندرونی معاملہ ہے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا
قوم برسوں فیض حمید اور جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی: خواجہ آصف
سیاسی سرگرمیاں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور اختیارات کا غلط استعمال ثابت، فیض حمیدکو 14سال قیدبامشقت کی سزا
ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی جماعت جو اس میں شامل رہی ہے وہ اپنی خود احتسابی کب کرے گی؟ اس فیصلے کی جو پریس ریلیز آئی ہے اس کا آخری پیرا معنی خیز ہے، اس پر غور کرنا چاہیے کہ انہیں خود اپنا احتساب کرنا چاہیے اس سے پہلے کوئی اور کرے،کون سا سیاست دان تھا اور سیاسی جماعت تھی جو مستفید ہوتی رہی، جنہوں نے اپنے اتنے بڑے افسر کو سزا دی کیا وہ چاہیں گے باقی کسی کو معافی ملنی چاہیے، یہ گٹھ جوڑ تھا سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیےْ، اس گٹھ جوڑ اور غیر آئینی اقدام کا نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔
ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ کو بانی پی ٹی آئی کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا دکھائی دے رہا ہے؟ اس پر طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جس طرح کے حالات ہیں سب کو پتا ہے بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید کا گٹھ جوڑ تھا، بانی پی ٹی آئی کی سیاست ہی فیض حمید کے گرد گھومتی تھی، فیض حمید عہدے پر نہ ہوتے تو بانی پی ٹی آئی کی کبھی حکومت بھی نہ بنتی، بانی پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھے اس وقت بھی ان کا گٹھ جوڑ تھا، ان تمام کے پیچھے جو آرکیٹیکٹ تھا وہ پکڑا گیا ہے، جو اس کے ساتھ بینفشری تھا جس نے دائرہ لینا تھا اس کو بھی کٹہرے میں آنا چاہیے، یہ ایک کلب بنا ہوا تھا، سب نے سوچا تھا ہم ایک دوسرے کو فائدہ دیں گے۔



