معروف سیاحتی مقام کاغان کے راستے خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان کے درمیان سفر پر پابندی عائد

ملک کے معروف سیاحتی مقام کاغان کے راستے خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان کے درمیان سفر پر پابندی عائد کردی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ نے وادی کاغان کے راستے صوبہ خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے درمیان سفر پر آئندہ گرمیوں تک مکمل پابندی عائد کی ہے، اس ھوالے سے اسسٹنٹ کمشنر بالاکوٹ حضرت خان نے میڈیا کو بتایا کہ مسافروں کی گاڑیوں، ڈرائیوروں اور سیاحوں کو اُن کی حفاظت کے پیشِ نظر گلگت بلتستان کے پڑوسی علاقے کی طرف سفر کرنے سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان کے درمیان سفری پابندی لگانے کا فیصلہ متعلقہ تمام اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں کیا گیا، گلگت بلتستان کے ضلع چلاس کی انتظامیہ اور پولیس مانسہرہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں، انہوں نے بھی مانسہرہ ناران جلکھڈ روڈ پر سفر پر پابندی عائد کی ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے سیاحوں کو صرف صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک چین والے ٹائروں کے ساتھ بٹا کنڈی اور سیف الملوک تک جانے کی اجازت ہوگی کیوں کہ اس وقت کے علاوہ برفیلے راستوں پر گاڑیاں محفوظ طریقے سے نہیں چل سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلی برفباری تک ناران تک سفر پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، ناران سے آگے بٹھاکنڈی، براوائی اور دیگر علاقوں میں آباد زیادہ تر مقامی افراد پہلے ہی ہجرت کرچکے ہیں، باقی لوگ ایک ہفتے کے اندر یا وادی کاغان میں دوسری برفباری کے بعد روانہ ہوجائیں گے، وادی کے بالائی علاقوں میں قائم پولیس چوکیوں کو بھی موسمِ سرما کیلئے بند کردیا گیا، ہمیں توقع ہے ایم این جے روڈ کے کاغان بابوسر ٹاپ سیکشن کو اگلے سال مئی کے اوائل میں دوبارہ کھول دیا جائے گا، تاہم اس وقت تک وادی میں نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہے گی۔



