دلچسپ و عجیب

ایک شخص چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے 3 سال سے جاری قانونی جنگ جیتنے میں کامیاب

لوگوں کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی کو متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مگر کیا آپ نے کبھی اے آئی ٹیکنالوجی کو ٹریفک جرمانے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں سوچا؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایک شخص نے ایسا سوچا اور 3 سال طویل قانونی جنگ کو جیت لیا۔

جی ہاں واقعی انگلینڈ کی کاؤنٹی ایسیکس سے تعلق رکھنے والے رافال گورفال کو اگست 2023 میں اس لیے ٹریفک جرمانے کا سامنا ہوا کیونکہ وہ پارکنگ فیس کو بروقت ادا نہیں کر پائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پارکنگ ٹکٹ لینے کے لیے پیمنٹ مشین تک گئے تھے جہاں وہ لمبی قطار میں انتظار کرتے رہے اور پھر علم ہوا کہ یہ مشین صرف نقد رقم قبول کرتی ہے اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

اس طرح ادائیگی میں تاخیر ہوگئی، جس کے 2 ہفتے بعد انہیں 100 پاؤنڈز جرمانے کا ٹکٹ موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے پارکنگ ٹکٹ کی ادائیگی 16 منٹ کے اندر نہیں کی۔

اس جرمانے کے خلاف رافال گورفال نے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جس کی پہلی سماعت جنوری 2024 میں ہوئی، جس دوران ان پر عائد جرمانہ 100 سے بڑھ کر 170 پاؤنڈز ہوگیا تھا۔

یہ سلسلہ جاری رہا اور مقدمہ طول پکڑتا رہا جس دوران ڈیڑھ سال تک رافال گورفال کو کسی قسم کا نوٹس موصول نہیں ہوا۔

مگر پھر انہیں ایک خط ملا جس میں بتایا گیا تھا کہ اکتوبر 2026 میں مقدمہ عدالت میں شروع ہو رہا ہے۔

یہ وہ موقع تھا جب انہوں نے مدد کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا رخ کیا۔

اس قانونی تنازع کے دوران رافال گورفال نے تمام خطوط کا ریکارڈ اپنے پاس رکھا تھا، جو انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کو دکھائے اور مشورہ مانگا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘چیٹ جی پی ٹی نے مجھے بتایا کہ عدالت میں کیا کہنا ہے، کن حکام کے پاس جانا ہے اور ان کے سامنے کیا مؤقف پیش کرنا ہے، میں نے وہ سب کچھ کیا اور اپنا دفاع بھی اس کی مدد سے تیار کیا’۔

3 سال کے عرصے میں جرمانے کی رقم 100 سے بڑھ کر 300 پاؤنڈز تک پہنچ چکی تھی۔

مگر عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی انہیں ای میل موصول ہوئی جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ مقدمہ اور جرمانہ واپس لے لیا گیا۔

اس طرح رافال گورفال 3 سال سے جاری قانونی جنگ جیت گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker