فالج: ابتدائی علامات جانیے کیونکہ ہر لمحہ قیمتی ہے

دنیا بھر میں عالمی یومِ فالج 29 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ فالج جسے ’برین اٹیک‘ بھی کہتے ہیں ایک جان لیوا بیماری ہے لہٰذا فالج سے بچاؤ اور اگر خدانخواستہ فالج ہوجائے تو اس کی ابتدائی علامات جاننا مریض کے لیے بنیادی کلید ہے۔
فالج میں ایک ایک منٹ دماغ کے لاکھوں خلیوں کا سوال ہوتا ہے، اگر علامات بروقت پہچان لی جائیں اور مریض فوراً ہسپتال پہنچ جائے تو جان بھی بچ سکتی ہے اور معذوری بھی بچا جاسکتا ہے۔
فالج کیا ہے؟
فالج جسے ’برین اٹیک‘ یا ’دماغ کا دورہ‘ بھی کہتے ہیں اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی رک جائے یا دماغ کی کوئی شریان پھٹ جائے۔
پہلی صورت میں خون کا لوتھڑا شریان بند کر دیتا ہے، اسے اسکیمک (خون کی فراہمی رکنا/ شریان بند کر دینا) فالج کہتے ہیں۔ دوسری صورت کو ہیمرجک (دماغ کی کوئی شریان پھٹ جائے) فالج کہتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں دماغی خلیے آکسیجن سے محروم ہو کر تیزی سے مرنے لگتے ہیں، اسی لیے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہر منٹ دماغ کے لاکھوں خلیوں کا سوال ہوتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہر لمحہ قیمتی ہوجاتا ہے۔
عالمی منظرنامہ
ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن (ڈبلیو ایس او) کے مطابق دنیا میں ہر سال فالج کے تقریباً ایک کروڑ سے زائد نئے مریض سامنے آتے ہیں۔
فالج سے ہونے والی 87 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، یعنی یہ غریب اور ترقی پذیر معاشروں کا بڑا مسئلہ ہے۔
فالج کی وجہ سے مریض و اس کے اہل خانہ پر معاشی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ عالمی سطح پر فالج کی سالانہ لاگت 890 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 0.66 فیصد بنتا ہے۔
مستقبل کا اندازہ بھی تشویشناک ہے۔ ڈبلیو ایس او اور LANCET Neurology Commission کے مطابق سال 2020 میں فالج سے ہونے والی اموات کی تعداد 66 لاکھ تھی اور 2050 میں یہ تعداد تقریباً ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہیں۔ ہر چار میں سے ایک بالغ کو زندگی میں کبھی بھی کہیں بھی فالج ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں صورتِ حال
پاکستان میں فالج کے قومی سطح کے مستند اعداد محدود ہیں کیونکہ صحت کے ڈھانچے کی کمزوری کے باعث واقعات کی درست شرح کا تعین مشکل رہا ہے تاہم دستیاب تحقیقی مطالعات اس مسئلے کی سنگینی ضرور دکھاتے ہیں۔
کراچی کی ایک کچی بستی کے سروے کے مطابق 545 افراد میں سے 19.1 فیصد کو پہلے فالج ہو چکا تھا اور 9.7 فیصد میں چھوٹا فالج ملا۔ چھوٹے فالج سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں وقتی طور پر فالج کی علامات ظاہر ہوں مثلاً اچانک چہرے کی ساخت میں تبدیلی یا بازو میں کمزوری یا بات چیت میں دشواری مگر فوری وہ درست بھی ہو جائیں، اسے چھوٹا فالج یا transient ischemic attack (TIA) کہتے ہیں۔
خواتین، بڑی عمرکے افراد، غیر متوازن شوگر کے مریض اور مختلف قسم کی تمباکو نوشی کرنے والے فالج سے زیادہ متاثر تھے۔ یہ ایک چھوٹے شہری نمونے کا نتیجہ ہے، پورے ملک کی شرح نہیں۔
لاہور جنرل اسپتال کی تحقیق کے مطابق ایمرجنسی میں آنے والے ڈیڑھ لاکھ مریضوں میں سے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سے زائد مریضوں کو فالج تھا یعنی 1.03 فیصد مریض فالج کا شکار تھے۔ زیادہ تر مریض 60 سے 69 سال کے تھے اور ان میں بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور امراضِ قلب نمایاں عوامل تھے۔
پاکستان میں بلند فشارِ خون، ذیابیطس، موٹاپا اور تمباکو نوشی کی شرح پہلے ہی بلند ہے اور یہی فالج کے بڑے اہم محرکات ہیں۔
فالج کے عوامل
عالمی تحقیق نے دس قابلِ اصلاح عوامل کی نشاندہی کی جو مل کر فالج کی وجوہات کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں بلڈ پریشر، جسمانی سرگرمی، چکنائی، غذا، موٹاپا، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی، دل کے امراض، الکحل اور ذیابیطس شامل ہیں۔
اسی تحقیق میں بلند فشارِ خون سب سے اہم قابلِ اصلاح عنصر ثابت ہوا۔
عالمی اسٹروک سوسائٹی کی 2025 رپورٹ کے مطابق فالج کا %69 بوجھ میٹابولک عوامل، %31 ماحولیاتی و طرزِ زندگی کے عوامل سے جڑا ہے۔
بلند فشارِ خون، خاموش قاتل
ہائی بلڈ پریشر کی اکثر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی اسی لیے لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مسلسل بڑھا ہوا دباؤ شریانوں کو کمزور کرتا ہے۔ نتیجتاً شریان میں لوتھڑا بن سکتا ہے یا شریان پھٹ سکتی ہے۔ صحت مند بلڈ پریشر عموماً 120/80 کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
جن افراد میں خون کا دباؤ مستقل بلند رہتا ہے انہیں معالج کے مشورے سے باقاعدہ علاج اور نگرانی کرانی چاہیے اور دوا کبھی خود سے بند نہیں کرنی چاہیے۔
تمباکو نوشی
سگریٹ، پان، گٹکا، ماوا اور نسوار اور اب ویپنگ سمیت ہر قسم کی تمباکو نوشی شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تمباکونوشی کا دھواں خون میں آکسیجن کم کرتا ہے، نکوٹین دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر بڑھاتی ہے اور تمباکو کا استعمال مفید کولیسٹرول (HDL) گھٹا کر نقصان دہ کولیسٹرول (LDL) بڑھاتا ہے۔ کراچی کے مطالعے میں چبانے والا تمباکو بھی فالج سے جڑا ملا۔
غذاء
سادہ، متوازن اور تازہ غذا بلڈ پریشر، شوگر، وزن اور کولیسٹرول، چاروں کو قابو میں رکھتی ہے۔ سبزیاں/پھل زیادہ، گوشت اور مرغن اشیاء کم، نمک اور چینی محدود رکھیں۔ میٹھے مشروبات اور پیک شدہ (پراسیسڈ) کھانے، جن میں نمک، چکنائی اور چینی زیادہ ہوتی ہے، جتنا ممکن ہو کم استعمال کریں۔
جسمانی سرگرمی
سستی اور بیٹھے رہنے کا معمول بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور موٹاپے، سب کو بڑھاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی عمومی سفارش ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدت کی ورزش ہے، مثلاً روزانہ تیز چہل قدمی۔ نوجوان نسل میں موبائل اور اسکرین کی عادت اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔
دیگر عوامل
بڑھتی عمر، دل کی بے ترتیب دھڑکن (خصوصاً ایٹریل فبریلیشن)، ذہنی دباؤ، نشہ آور اشیا اور موروثی عوامل بھی خطرہ بڑھاتے ہیں۔
علامات پہچانیں، FAST اصول اپنائیں
فالج کی صورت میں علاج میں تاخیر کا مطلب ہے کہ اس سے نقصان بھی زیادہ ہوگا۔ ان علامات پر فوراً ایمرجنسی میں جائیں:
چہرہ (F – Face): چہرے کا ایک طرف سے ڈھلک جانا۔
بازو (A – Arm): ایک بازو یا ٹانگ میں کمزوری یا سن ہونا۔
گفتگو (S – Speech): بولنے میں لکنت یا بات سمجھنے میں دشواری۔
وقت (T – Time): وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہسپتال پہنچیں۔
ٹوٹکوں، کبوتروں کے خون یا گھر پر انتظار میں وقت ضائع نہ کریں اوپر دی گئی علامت نظر آئیں تو سیدھا اسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ یاد رکھیں کہ اچانک نظر دھندلانا، شدید چکر اور غیر معمولی شدید سردرد بھی خطرے کی علامات ہیں۔
شفاء اور بیماری اللہ کے اختیار میں ہے اور یہی ایمان ہمیں احتیاط اور علاج سے نہیں روکتا۔ صحت کی حفاظت، بیماری سے بچاؤ اور بروقت علاج بھی دینی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ آگہی اس مرض کے خلاف پہلا ہتھیار ہے۔
کیا کیا جانا چاہیے؟
انفرادی سطح پر سال میں کم از کم ایک بار بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول چیک کرائیں اور 40 سال کے بعد زیادہ باقاعدگی سے چیک کرائیں۔ ہر قسم کا تمباکو فوری ترک کریں، روزانہ چلیں، وزن قابو میں رکھیں، خوراک میں نمک اور چینی کم کریں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دی ہوئی ادویات باقاعدگی سے لیں۔
حکومتی اور سماجی سطح پر بھی’برین اٹیک‘ کی عام فہم آگہی مساجد، تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانی چاہیے۔
فالج دنیا میں موت اور معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کا بڑا حصہ روکا جا سکتا ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کا کنٹرول، تمباکو سے پرہیز، متوازن غذا اور روزانہ حرکت سب سے مؤثر دفاع ہیں، اگر علامات ظاہر ہوں تو ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔



