ٹیلی میڈیسن : گھر بیٹھے سرکاری علاج کی سہولت، صرف ایپ ڈان لوڈ کریں

کوئٹہ : بلوچستان میں ٹیلی میڈیسن ہیلتھ یونٹس نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے شہریوں کو ڈیجیٹل نظام کے تحت طبی مشاورت اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس حوالے سے باخبر سویرا میں بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس پروگرام کی مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت صوبے کے 41 اضلاع میں بنیادی مراکز صحت اور دیگر طبی مراکز کو ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن منسلک کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہاں بیک وقت 100 ڈاکٹر خدمات انجام دے سکتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 300 ڈاکٹروں کی گنجائش موجود ہے۔
اس کے علاوہ ٹیلی میڈیسن سینٹر میں مختلف شعبوں کے 15 ایف سی پی ایس ماہر ڈاکٹر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دور دراز علاقوں میں قائم بنیادی مراکز صحت سے منسلک مریضوں کو آن لائن طبی مشورے فراہم کرتے ہیں۔
مریض کا بلڈ پریشر اور دیگر اہم طبی علامات چیک کرنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر الٹراساؤنڈ اور دیگر ٹیسٹ بھی کرائے جاتے ہیں۔
ان رپورٹس اور طبی معلومات کو ٹیلی میڈیسن سینٹر میں موجود ڈاکٹر کے ساتھ آن لائن شیئر کیا جاتا ہے، جس کے بعد ڈاکٹر مریض کے لیے علاج اور ادویات تجویز کرتا ہے۔
حکام کے مطابق ہر مریض کا الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ بھی تیار کیا جا رہا ہے اور اگر کسی مریض کو مزید ٹیسٹ یا خصوصی علاج کی ضرورت ہو تو اسے متعلقہ طبی مرکز یا اسپتال ریفر کرنے کا نظام بھی موجود ہے۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق بلوچستان حکومت نے ٹیلی میڈیسن کے ساتھ ’صحت ڈائجسٹ‘ نامی ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے اپنی طبی شکایات درج کرکے ڈاکٹر سے مشورہ حاصل کرسکتے ہیں۔
بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ڈاکٹر کی جانب سے جاری کردہ نسخے پر موجود بار کوڈ کو متعلقہ میڈیکل اسٹور پر اسکین کرکے مریض کو دوا فراہم کی جائے گی، جبکہ بعد ازاں حکومت بلوچستان معاہدے کے تحت متعلقہ میڈیکل اسٹور کو ادویات کی رقم ادا کرے گی۔



