صحت

کینسر کے خلاف بڑی کامیابی : ٹیومر سے ویکسین تیار

لندن : میلانوما کے مریضوں کے لیے ایک بڑی طبی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دنیا کی پہلی ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین نے امیونوتھراپی کے ساتھ استعمال کیے جانے پر کینسر کے دوبارہ نمودار ہونے یا مریض کی موت کے خطرے کو 42 فیصد تک کم کردیا۔

رپورٹ کے مطابق مرحلہ سوم کے ایک بڑے کلینیکل ٹرائل میں ایک ہزار 137 مریضوں کو شامل کیا گیا۔

تحقیق میں ذاتی نوعیت کی ’ایم آر این اے‘ ویکسین کو امیونوتھراپی کی معروف دوا کی ٹروڈا کے ساتھ استعمال کیا گیا، جس کے نتائج نے ماہرین کو امید دلائی ہے کہ مستقبل میں کینسر کے علاج کے لیے مریض کی اپنی بیماری کے مطابق تیار کی جانے والی ویکسین اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق صرف امیونوتھراپی حاصل کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں ویکسین اور امیونوتھراپی کا امتزاج استعمال کرنے والے مریضوں میں دو سال کے دوران میلانوما کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے یا موت کا خطرہ 42 فیصد کم جبکہ بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ تقریباً 38 فیصد کم دیکھا گیا۔

میلانوما جلد کے کینسر کی ایک خطرناک قسم ہے اور برطانیہ میں ہر سال تقریباً 2 ہزار 600 اموات کا سبب بنتی ہے۔ بیماری کی شدید ترین حالت میں مبتلا مریضوں میں تشخیص کے پانچ سال بعد زندہ رہنے والوں کی شرح بھی تقریباً ایک تہائی رہ جاتی ہے۔

اس تجرباتی ویکسین کو انٹیسمرن کا نام دیا گیا ہے، یہ عام ویکسین سے مختلف ہے کیونکہ اسے ہر مریض کے لیے انفرادی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے مریض کے اپنے ٹیومر سے حاصل کیے گئے خلیوں اور کینسر کی مخصوص خصوصیات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایسی ویکسین تیار کی جاتی ہے جو مدافعتی نظام کو باقی رہ جانے والے کینسر کے خلیوں کو شناخت کرکے ان پر حملہ کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے۔

کیمبرج کے ایڈن بروک اسپتال میں تحقیق کے ایک حصے کی نگرانی کرنے والی کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ پروفیسر پیپا کوری کے مطابق ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین مریض کے مدافعتی نظام کو سرجری کے بعد باقی رہ جانے والے ٹیومر کے خلیوں کو پہچاننے اور انہیں ختم کرنے کے لیے متحرک کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کینسر کے علاج میں ایک بالکل نیا طریقہ ہے، جس میں مریض کی انفرادی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج تیار کیا جاتا ہے۔

FOLLOW US ON ARY TUBE
ٹرائل میں شامل تقریباً دو تہائی مریضوں کو کی ٹروڈا کے ساتھ تجرباتی ویکسین دی گئی، جبکہ باقی مریضوں کو امیونوتھراپی کے ساتھ پلیسبو دیا گیا۔

ادویہ ساز اداروں ایم ایس ڈی اور موڈرنا کے مطابق اس طریقہ علاج کو اب گردے، مثانے اور پھیپھڑوں سمیت دیگر اقسام کے کینسر کے خلاف بھی آزمایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید تحقیقات میں بھی یہی نتائج سامنے آئے تو ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین مستقبل میں کینسر کے علاج کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker