عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں: وزیر خزانہ
لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خدشہ ظاہر کیا ہےکہ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت بے یقینی کی صورت حال سے دوچار ہے لیکن چیلنجز کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے، سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، عالمی سرمایہ کار پاکستان کے ساتھ دیگر منڈیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کے بانڈز میں یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑسکتے ہیں، حکومت ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے اصلاحات کررہی ہے جب کہ معاشی ترقی کے عمل میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عوام کو پیٹرول کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑے، حکومت نے ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کی کیونکہ بڑی گاڑیاں رکھنے والوں کو سبسڈی کی ضرورت نہیں۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ موسم سرما کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر کام جاری ہے، گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی، پاکستان میں توانائی کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی، خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کی صورت حال تسلی بخش ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ درآمدات پر انحصار کے باعث ماضی میں پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تاہم 4 سے 5 سال کی کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ بی کی سطح پر لائی گئی ہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ تھا تاہم ان میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔



