انٹرنیشنل

چین نے ہزاروں کلومیٹر دور طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانے والا ہائپر سونک میزائل تیارکرلیا

چین نے ہزاروں کلومیٹر دور موجود طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانےکے لیے ہائپرسونک میزائل تیار کرلیا ہے جس کی رینج حیران کر دینے والی ہے۔

امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کے مطابق چینی فوج نے ایسے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز (HGVs) تیار کیے ہیں جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار بھی فائر کرسکتے ہیں، اس کی مدد سے ہزاروں کلومیٹر دور موجودکمانڈ اینڈکنٹرول طیاروں اور ری فیولنگ ٹینکرز طیاروں کو بھی نشانہ بنا کر دشمن کے لڑاکا طیاروں کا مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی شیلڈ مفلوج کی جاسکتی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ 6 ماہ سے جاری جنگ کے بعد امریکا کو اہم فضائی دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، چین کی یہ پیشرفت مزید اہمیت اختیار کرگئی ہےکیونکہ اس کے پاس پہلے ہی 3 ہزار 150 سے زیادہ بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

امریکا کا نیا اور انتہائی طویل فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنیوالا میزائل AIM-424 Malice منظرِ عام پر آگیا

اس معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بلومبرگ کو بتایا کہ چین نے بعض ہائپرسونک کروز میزائلوں میں فضا سے فضا میں حملےکی صلاحیت بھی شامل کی ہے، جب کہ کئی اقسام کے میزائلوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانےکی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ایسے ہتھیار چین کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ کے دوران امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور چین ہزاروں میل دور سے بھی امریکی طیاروں کو نشانہ بناسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق DF-17 میزائل سے داغا جانے والا ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل تقریباً 2 ہزار 414 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے۔ یہ فاصلہ چین سے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرےگوام تک کے فاصلے سےکچھ ہی کم ہے،گوام امریکا کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے۔

اس کے علاوہ چین کےDF-27 میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 8000 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے امریکی ریاست ہوائی بھی اس کی زد میں آسکتی ہے۔

ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز ایسے وار ہیڈز ہوتے ہیں جو اپنے ہدف کی جانب جاتے ہوئے فضا میں اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں جس کے باعث ان کی رینج بڑھ جاتی ہے اور انہیں راستے میں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق فی الحال چین کے سوا دنیا کےکسی اور ملک کے بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ اس کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جن میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی صلاحیت ایک ساتھ موجود ہو۔

چین نےگزشتہ سال سے میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ جنگ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق 2024 تک چین کے پاس کم از کم 3ہزار 150 بیلسٹک میزائل اور 300 زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل موجود تھے۔

طویل فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنیوالے چینی میزائل PL-17 کی پہلی جھلک سامنے آگئی

ہفتے کے روز امریکی بحریہ نے بتایا تھا کہ وہ فضا سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نئے اور جدید میزائل ‘اے آئی ایم-424 مالس’کی آزمائش کر رہی ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس میزائل کا وزن تقریباً 1500 پاؤنڈ اور اس کی رینج 463 کلومیٹر سے زائد ہے۔

امریکی دفاعی ویب سائٹ کے مطابق پینٹاگون برسوں سے ملٹی اسٹیج ائیر ٹو ائیر میزائلوں میں دلچسپی لے رہا ہے اور اب وہ ایسے میزائل تیار کرنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے جو آنے والے سالوں میں ایک ہزار میل کے فاصلے تک مار کر سکیں۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر چین کے ساتھ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے فرق کو ختم کرنا اور اس سلسلے میں چینی فو ج کی صلاحیتوں سے نمایاں طور پر آگے نکلنا پینٹاگون کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker