دنیا میں خوراک کا بحران اور مہنگائی بڑھے گی، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت تقریباً مکمل طور پر رک چکی ہے۔ تجارتی راستوں پر حملوں سے دنیا میں خوراک کا بحران اور مہنگائی بڑھے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی سطح پر سمندری کنٹینرز کے کرائے ایک سال کے دوران 84 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی راستوں پر حملوں اور جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث توانائی، کھاد، خام مال اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی محدود ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں خوراک کا بحران اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ سمندری گزرگاہوں کو کسی بھی قسم کے دباؤ یا جبر کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور عالمی خوراک کی فراہمی کو تنازعات کا نقصان نہیں بننے دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث انسانی ضروریات، کھاد اور خام مال کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی ٹاسک فورس فعال ہے اور ایک خصوصی فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا کینیڈا کی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا اعلان
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر رکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو دنیا بھر کے ممالک کو مزید سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔



