ماہرین نے گنج پن کا آسان اور مؤثر علاج دریافت کرلیا

دنیا بھر میں ہر سال گنج پن سے متاثر افراد علاج کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کردیتے ہیں اور کوئی بھی طریقہ علاج 100 فیصد مؤثر نہیں۔
مگر اب ایک نئی دریافت سے گنج پن کا مؤثر طریقہ علاج تشکیل دینا ممکن ہوجائے گا۔
درحقیقت ایک عام دستیاب دوا میں ہی گنج پن کا مؤثر علاج چھپا ہوا ہے۔
یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
جرنل جاما ڈرماٹولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جوڑوں کی تکلیف کے علاج کے لیے کھائی جانے والی ایک دوا سے ایلوسپیا اریاکا مؤثر علاج ممکن ہے۔
اس دریافت سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ گنج پن کا باعث بننے والے عام مرض ایلوسپیا اریا کا مؤثر علاج ممکن ہو سکے گا۔
اس مرض میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سر یا جسم کے دیگر حصوں پر اچانک گول دائروں کی شکل میں بال اڑ جاتے ہیں یا جھڑنے لگتے ہیں۔
اس حوالے سے 2 بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز میں کچھ مریضوں کے سر کے بالوں کی نشوونما بحال ہوگئی۔
کلینیکل ٹرائلز کے دوران upadacitinib نامی دوا کا استعمال کیا گیا۔
روزانہ ایک بار کھائی جانے والی دوا اس مدافعتی ردعمل کو دبا دیتی ہے جو ایلوسپیا اریا کے شکار افراد کے مدافعتی نظام بالوں کی جڑوں پر حملہ آور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
کلینیکل ٹرائلز کے دوران شمالی امریکا، یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کے سر کا بیشتر حصہ بالوں سے محروم ہوچکا تھا۔
اوسطاً یہ مریض 84 فیصد تک بالوں سے محروم ہوچکے تھے اور نتائج سے عندیہ ملا کہ یہ دوا مدافعتی ردعمل کو ہدف بناکر گنج پن کا شکار بنانے والے مرض کا اچھا علاج ثابت ہوتی ہے۔
انار کھانے کا ایک اور بہترین فائدہ دریافت
یہ دوا بنیادی طور پر مدافعتی نظام کے ان سگنلز کو بلاک کرتی ہے جو ورم سے جڑے ردعمل کو متحرک کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
محققین کا ماننا ہے کہ یہی سگنلز مدافعتی نظام کو بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔
کلینیکل ٹرائلز میں شامل افراد کو 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور ایک گروپ کو روزانہ 15 ملی گرام، دوسرے کو 30 ملی گرام upadacitinib گولی کا روزانہ استعمال کرایا گیا جبکہ تیسرے گروپ کو پلیسبو دیا گیا۔
خیال رہے کہ پلیسبو (Placebo) ایک ایسی بے اثر دوا یا علاج ہے جس میں کوئی حقیقی طبی یا کیمیائی اثر نہیں ہوتا، لیکن مریض کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ ایک اصلی اور مؤثر دوا ہے
اس کے بعد محققین کی جانب سے 24 ہفتوں تک بالوں کی نشوونما میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق دوا کا استعمال کرنے والے دونوں گروپس میں شامل مریضوں کے سر کے بالوں کی جڑوں کا کم از کم 80 فیصد حصے تک دوا کے اثرات پہنچے۔
کچھ مریضوں کی بالوں کی نشوونما بہت زیادہ بہتر ہوگئی اور بال لگ بھگ مکمل طور پر واپس آگئے۔
نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ یہ بہتری محض چند ماہ کے اندر آتی ہے۔
محققین کے مطابق اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ علم ہوسکے کہ دوا کے ذریعے بحال ہونے والی نشوونما کب تک برقرار رہتی ہے اور اس سے کسی قسم کے مضر اثرات تو مرتب نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ابھی ابتدائی نتائج ہیں جو بہت حوصلہ افزا ہیں اور اس حوالے سے تحقیقی کام جاری رکھا جائے گا۔



