انٹرنیشنل

ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کیلئے اسرائیل نے فوجی تیاریاں مکمل کرلیں، اسرائیلی اخبار

اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ شروع ہونےکے پیش نظر اپنی فوجی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دفاعی اور جارحانہ دونوں طرح کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور فوجی تیاریاں اب محض منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی مشقوں کے مرحلے میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں لڑاکا طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود سے ایران کی سرحدوں کی جانب پروازیں کی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد ایران پر ممکنہ حملوں کے فضائی راستوں کی ریہرسل کرنا تھا۔

نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر اسرائیلی سیاسی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت نئی جنگ شروع کرنےکا حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدےکی کوشش جاری رکھنےکا فیصلہ کرتے ہیں یا اسرائیل کے ساتھ مل کر دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرتے ہیں۔

اخبار کے مطابق دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈکوپر نے ٹرمپ کو دوبارہ حملے شروع کرنےکے منصوبے پیش کر دیے ہیں۔ تاہم اخبار کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران امریکی فوج کے 10 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اسرائیلی فضائی اڈوں پر پہنچے ہیں۔ یہ طیارے خطے میں فوجی سازوسامان پہنچانے کے لیے جاری فضائی نقل و حمل کی مہم کا حصہ تھے۔

اسرائیلی سیاسی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ امریکا کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک یہ ہےکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے تزویراتی مقاصد ابھی تک واضح طور پر متعین نہیں کیےگئے۔ ان ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل نظام اور فوجی صلاحیتوں کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے سے ضروری نہیں کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے یا اس کی پالیسیوں میں تبدیلی آجائے۔

رپورٹ میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی اور حزب اللہ بھی اس میں شامل ہو گئی تو تنازع لبنان تک پھیل سکتا ہے، ایسی صورتحال میں جنگ طویل ہوسکتی ہے اور اسرائیل کے فضائی دفاعی نظاموں اور میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker