انٹر پول نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے ریڈ وارنٹ جاری کر دیئے
دونوں ملزمان واپس لانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا گیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لائیں گے اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو واپس لانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میں اشتہاری ملزم ملک ریاض کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق اسی کیس میں ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کے بھی انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ دونوں ملزمان کو قانون کے مطابق گرفتار کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کارروائی جاری ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے دونوں ملزمان جلد گرفتار کر کے پاکستان لائے جائیں گے اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
ملک ریاض، 72 سالہ بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین ہیں جبکہ ان کے 48 سالہ بیٹے علی ریاض کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ 2019 میں دونوں نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی تحقیقات کے بعد £190 ملین ضبطی پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس میں لندن کے ایک £50 ملین مالیت کے مکان کی فروخت سے حاصل رقم بھی شامل تھی۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک ریاض اور ان کی کمپنی مختلف قانونی تنازعات اور مقدمات کا سامنا کرتی رہی ہے۔
انہیں القادر ٹرسٹ کیس میں مفرور بھی قرار دیا گیا، جبکہ نیب نے جنوری 2025 میں ان کی متحدہ عرب امارات سے حوالگی کا عمل شروع کیا تھا۔ ان پر زمینوں کے حصول کے طریقہ کار اور سرکاری اراضی سے متعلق متعدد الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں سپریم کورٹ نے 2019 میں سندھ حکومت کو واجب الادا رقوم کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ اگست 2025 میں قانونی دباؤ اور ممکنہ نیلامیوں سے قبل ملک ریاض نے مذاکرات اور باعزت حل کی اپیل بھی کی تھی۔



