پاکستان

وفاقی محتسب نے سابق شوہر کی جانب سے 11 کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کو اس کا حق دلادیا

وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی نے سابق شوہر کی جانب سے 11 کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم کی گئی خاتون کو اس کا حق دلا دیا۔

دوستانہ تصفیے کے بعد خاتون ملیحہ محبوب کے حق میں سنائے گئے فیصلے پر سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ کی نظرثانی درخواست بھی نمٹا دی گئی، سابق شوہر کی جانب سے سیٹلمنٹ پروپوزل پر اعتراض نا کیے جانے کے باعث ای الیون کا اپارٹمنٹ اور بی سترہ کا ایک پلاٹ خاتون کے نام ٹرانسفر کر دیا گیا۔

وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے فیصلے میں لکھا کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین کو ان کے حقوق دیے، خاتون کو اس کی جائیداد کے حق سے محروم کرنا غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

فیصلے کے مطابق آئی ٹی کے شعبہ سے وابستہ ملیحہ محبوب حیدر نے اپنے سابق شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی کہ دونوں کی شادی 11 اپریل 2004 کو ہوئی تھی جو 2019 میں خلع کے ذریعے ختم ہوئی، شادی کے دوران دونوں نے اسلام آباد میں مشترکہ طور پر جائیدادیں بنائیں جس میں ای الیون کا اپارٹمنٹ اور سیکٹر بی سترہ کے تین پلاٹس شامل تھے۔

شکایت کنندہ نے خریداری سے متعلق تمام دستاویزات، معاہدات اور ادائیگیوں کے ثبوت پیش کیے، خاتون کے سابق شوہر ڈاکٹر شیراز چیمہ بار بار نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہوئے، جس پر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

فیصلے کے بعد شکایت کنندہ کے سابق شوہر نے نظرثانی درخواست دائر کی، عدالت نے فریقین کے لیے جائیداد کی 11 کروڑ روپے مارکیٹ ویلیو طے کی، سیٹلمنٹ پروپوزل خاتون کے سابق شوہر کو بھجوائی گئی جس پر اس نے کوئی اعتراض نیں کیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اپارٹمنٹ اور ایک فلیٹ شکایت گزار کو دیا جائے جس کے ٹرانسفر اخراجات وہ خود برداشت کرے۔ وفاقی محتسب نے فیصلے میں لکھا کہ آئین پاکستان خواتین کے مساوی جائیدادیں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker