
ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگائی جا رہی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو ڈھونڈیں، غیرقانونی طور پر مقیم افغان خود ہی عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں،، تینوں صوبوں سے افغانوں کو نکالا جبکہ خیبرپختونخوا میں تحفظ دیا جا رہا ہے: محسن نقوی کی پریس کانفرنس
🔶 وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے تینوں صوبوں سے افغانوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ان کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد خودکش حملے اور کیڈٹ کالج پر حملے میں افغان ملوث تھے جبکہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں افراد بھی افغان نکلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانوں کو واپس بھجوانے کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں صورت حال مختلف ہے اور وہاں سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔
🔶ان کے مطابق ’غیرقانونی طور پر مقیم افغان خود ہی عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں، کوئی بھیجا جانے والا واپس آیا تو گرفتار کیا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’مزید بم دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے، ہر صورت ان کو واپس بھیجیں گے۔‘
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگائی جا رہی ہے کہ وہ افغان شہریوں کو ڈھونڈیں۔
🔶 ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو واپس بھیجنے میں کامیاب ہو رہے اور سب کو ہر حال میں بھیجیں گے۔’جتنے بھی حملے ہوئے ان میں افغان ملوث ہیں اور سارے خودکش حملہ آور افغانستان سے آ رہے ہیں۔‘محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آج جو ہفتہ شروع ہوا اس سے ایس ایچ اوز کی ذمہ داری لگائی جا رہی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو ڈھونڈیں اور ان کو ہر حال میں واپس بھجوانا ہے۔
🔶 ہم خیبر پختونخوا کی حکومت کو بھی بار بار یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس وقت ضروری بات یہ ہے کہ آپ پہلے اپنے ملک کا سوچیں، اس کے بعد اپنی سیاست کریں۔
’ان کو ہر صورت وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل کرانا پڑے گا۔‘ان کے مطابق ’ایک طرف ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے اور دوسری طرف ہم یہ دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے۔‘
تمام آئی جیز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام ڈیٹا اکٹھا کریں اور ایس ایچ اوز کو ذمہ داری سوپنیں اور گراس روٹ لیول پر کام شروع کریں۔



