پاکستان

ملک ریاض کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کی کارروائی کا آغاز

پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان واپس لانے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے اس معاملے پر ایف آئی اے سے باضابطہ رابطہ کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک ریاض کی گرفتاری یا حوالگی کے لیے نیب خود متحدہ عرب امارات کی حکومت سے براہ راست رابطہ نہیں کرسکتا، اس معاملے میں ایف آئی اے، وزارت خارجہ اور انٹرپول کے ذریعے ہی پیشرفت ہوسکتی ہے، اسی لیے نیب بیرون ملک مفرور اشتہاریوں کا معاملہ ایف آئی اے کو ریفر کرتا ہے۔
نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک ریاض کا معاملہ بھی ضابطے کے مطابق ایف آئی اے کو ارسال کردیا گیا ہے، جس پر ایف آئی اے، حکومت اور وزارت خارجہ کے ذریعے ہی اماراتی حکام سے رابطہ کرے گی، جس کے نتیجے میں انٹرپول کے ذریعے ہی حوالگی یا گرفتاری ہوسکتی ہے۔

نیب ذرائع نے اس بات کی بھی نفی کی ہے کہ ملک ریاض پر برطانوی حکام نے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں کرپشن کا الزام نہیں لگایا اور کہا کہ نومبر 2021ء میں برطانیہ کی رائل کورٹ آف جسٹس نے اپیل مسترد کردی تھی، برطانوی محکمہ داخلہ نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے کا ویزا نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات اور 2019ء میں طے پانے والے معاملات، بحریہ ٹاؤن کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلوں، بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی رقم پر جے آئی ٹی کی رپورٹ اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف اپریل 2019ء میں دائر کردہ نیب ریفرنس کا جائزہ لینے کے بعد کا منسوخ کیا تھا۔

علاوہ ازیں نیب نے ایک بیان میں لوگوں کو بحریہ ٹاؤن دبئی میں سرمایہ کاری سے بھی متنبہ کیا جب کہ نیب ملک ریاض کی بحریہ ٹاؤن پر ملک بھر میں اپنے ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے سرکاری اور نجی زمینوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے کا الزامات بھی عائد کرچکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker