ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام نہ دیے جانے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل سامنے آگیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام نہ ملنے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل سامنے آگیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس اسٹیون چیونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ نوبیل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ سیاست کو امن پر ترجیح دیتے ہیں۔
اسٹیون چیونگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، صدر ٹرمپ جنگیں ختم کرتے رہیں گے اور جانیں بچاتے رہیں گے۔
خیال رہے کہ آج سوئیڈن کی رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنس کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے نوبیل امن انعام 2025 اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امن کا نوبیل انعام وینزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کو دیا جاتا ہے۔
نارویجن نوبیل کمیٹی کے مطابق ماریاکورینا مچاڈو کو وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ اور آمریت سے جمہوریت کی منصفانہ و پُرامن منتقلی کی جدوجہد پر دیاگیا۔
واضح رہے امن کا نوبیل انعام (نوبیل پیس پرائز) اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے اور امن کے قیام و فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔
امریکی صدر ٹرمپ امن نوبیل انعام حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تو 7جنگیں ختم کرائی ہیں اور وہ دنیا میں امن کے لیے کام کررہے ہیں لہٰذا انہیں امن کا نوبیل انعام دیا جائے۔
بعد ازاں پاکستان نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں امریکی صدر کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرمپ کو امن کا نوبیل ایوارڈ کا حقدار قرار دینے میں پہل کی تھی اور اس بات کااعلان 20 جون کو کیا گیا تھا۔
پاکستان کے بعد اسرائیل، کمبوڈیا، آرمینیا اور آذربائیجان نے بھی صدر ٹرمپ کے لیے اس ایوارڈ کی حمایت کی تھی تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ کا نوبیل انعام حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ناہوسکا۔



