مسلمان جھکنے کیلئے پیدا نہیں ہوا ،جھکانے کی کوشش کی تو بابر بن جائیگا، ٹیپو کی صورت میں نمودار ہو گا،مرجائے گا محکومی قبول نہ کریگا،قائد اعظمؒ

انگریز کی سازش تھی کہ ہندوﺅں کو ہمیشہ اقتصادی ،سیاسی اورسماجی مراعات سے نوازا جاتا رہے۔1857ءکی جنگ آزادی کے واقعات کے بعد اور ہند کے مسلمان کو سیاسی طور پردبائے رکھنا جو سب کچھ جنگ آزادی میں کھو چکے تھے۔عزت ودولت چلی گئی،عظمت و شوکت رخصت ہو گئی۔ سطوت جلال بھی نہ رہا۔ پریشانی موت کے مترادف تھی۔برطانوی سیاست نے مسلمانوں کی ساکھ کو متاثر کیا اور ہندوﺅں کی ملی بھگت نے اور بھی بربادی کر دی۔وقت گزرتا گیا جب ظلم کی انتہا ہو گئی۔سرسیداحمد خاں،علامہ اقبال، مولانا شبلی نعمانی، محسن الملک،وقار الملک،مولانا حالی، حسرت موہانی ، مولانا ظفر علی خان سامنے آئے اور بعد میں قائد نے ان کے افکار کو آگے بڑھایا۔ قوم کو بیدار کیا اپنی خوبیوں سے آشنا کیا۔ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ترغیب دی۔ چند منتشرافراد سے کام لیا۔ کوششیں بار آور ثابت ہوئیں۔ قوم سوچنے کے قابل ہوئی اور اپنا برا بھلا سمجھنے لگی۔ لہٰذا لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی چال میں نہ آئی اور اپنا مستقبل سیدھا کیا۔ قوم کو سمجھایا کہ مسلمانوں کا اپنا سیاسی تشخص ہوتاہے اور اس تشخص کو آگے اس وقت بڑھایا جاسکتا ہے جب اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا وقت مل جائے اور مسلمان فرزند دوسروں کی ترقی سے مرغوب نہیں ہوتا جب تک وہ خود نہ کرے کیونکہ اس کا پہلا کام سیاسی اعتبار سے اسلام کے اُصولوں کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ انگریز گورنر جنرل کے ہونے سے نہیں ہوسکتا۔ جبکہ خود ہم قافلہ کی رہنمائی نہ کریں۔
قائداعظم اور مسلم لیگ نے کئی بار سوچا۔ انگریز کی دوستی ہندوﺅں کے قریب تھی اور قریب رہے گی پھر ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ پاکستان کی بھلائی کریں گے۔ قائداعظم نے کہاہمارا نصب العین اسلام ہے اور اسلام ایک ایسی طاقت ہے جس سے سارا یورپ ڈرتا ہے۔دوسری طرف ہندو چالاک بنیا ہے۔اس کا کوئی مذہب نہیں ،طریقہ زندگی،ذات پرستی اور بت پرستی ہے۔ان کی غرض و غایت ہندوﺅں کا ہندوستان میں غلبہ ہے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا ہے۔دنیا کے کسی حصے کے ساتھ ہندوﺅں کا سماج،تمدّن ، مذہب نہیں ملتا۔جب کہ اسلام کے داعی دنیا کے ہر حصے میں موجود ہیں ۔ مسلمان سادہ لوح ہر جگہ پر پائے جاتے ہیں اور دینی افکار کے علاوہ تمدّنی تعلقات ہر جگہ میں موجو دہے پھر مسلمانوں نے دنیا میں اور ہندوستان میں حکمرانی کر رکھی ہے۔اب باعزم آہنی لیڈر محمد علی جناح میدان میں آیا تو ان کی صفوں میں ماتم برپا ہو گیا۔
اقتصادی سوچ ہندوﺅں کی جُدا ، مسلمانوں کی جدا۔لہٰذا مسلمانوں کے دل میں یہ شبہ ہوگیاکہ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن اور ہندوﺅں کی ملی بھگت سے مسلمانوں کی نفسیات، اقتصادیات کوبھاری نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ پھر کس طرح لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے گورنر جنرل پاکستان ہونے سے مسلمانوں کو فائدہ ہو گا۔ قیام پاکستان کے بعد بی بی سی لندن کو لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے ایک انٹرویو دیا۔ دورانِ انٹرویو ان سے سوال کیا گیا :
”کیا آپ کے عہد میں ہندوستان کو متحد رکھنے کا کوئی امکان تھا؟“
لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے جواب دیا:
”میں ہندوستان گیا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ اسے کسی طور پر متحد رکھ سکوں۔ میں نے اس مقصد کی خاطر انتہائی کوشش کی لیکن اس کی راہ میں ایک ایسا شخص حائل تھا جو پہاڑ کی طرح ڈٹا ہوا تھا، یہ تھا محمد علی جناح۔“
بلاشبہ یہ محمد علی جناح کی ذہانت ہی تھی کہ انہوں نے اپنے اٹل ارادوں کے آگے کسی کو بند نہیں باندھنے دیا اور متحدہ ہندوستان کے ارادے رکھنے والوں کو پاکستان کے قیام پر رضا مند ہونا پڑا۔ بانی پاکستان کی عظیم شخصیت میں وہ بہت کچھ تھا جو حریف کو جھکنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ اسی لئے انہوں نے مسلمانوں اور پاکستان کے وجود کو منوالیا، جسے علیٰحدہ اور جداگانہ تشخص دینے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔
قائداعظم کی دانش مندی کام آئی۔آپ نے کہاکہ آپ سپرگورنر جنرل ہو جائیں دونوں ڈومینوں کے اور ثالثی کا رول ادا کریں۔آپ کی بڑائی قائم رہے گی۔مگر وہ کہاں سمجھ پاتے۔ ان کے دماغ میں ہندوﺅں اور کانگریس نے بٹھا رکھا تھا کہ آپ کے سامنے جناح کیسے جسارت کریںگے اور آپ کی آفر کو قبول نہیں کریںگے۔صد آفرین قائداعظم ؒ کو انگریز مرعوب نہ کرسکے۔
قائداعظم اس امتحان میں اوّل رہے۔ پاکستان کواور پاکستان کے جھنڈے کو یونین جیک کے نشان سے صاف رکھا۔چار دانگ عالم میں روشناس کرایا اور مسلمان ہمیشہ کی بیخ کنی سے بچ گئے اور اپنا ملک ،اپنی قوم، اپنا قائد میسر آیا۔
مسلمانوں نے قائداعظم کے اس اہمیت والے فیصلے کو سراہا کہ اب انتظامی اُمور پالیسی اور نظریہ پاکستان کی حفاظت ہو سکے گی اور دوسروں کو اپنی قوم کا چیمپئن بننے نہیں دیا۔ مسلم لیگ کا اپنا مؤقف تھا کہ دوستانہ فضا میں اپنے اندر جدید ترقی اور قومی سکیم لائیں گے۔ لہٰذا شراکت کی بات ٹل گئی اور مسلمان اپنے حصہ ہند کے خود مختار ہو گئے۔ تاریخ میں ایک دل فریب اسلامی تہذیب نے اپنا باب کھول دیا۔
سردار شوکت حیات خان کا کہنا تھاکہ بھارت نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو گورنر جنرل تسلیم کرکے تمام جائز و ناجائز فائدے اٹھائے اور یہ غلطی قائد سے ہوئی کہ انہوں نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو گورنر جنرل پاکستان نہ بننے دیا۔
سردار شوکت حیات خان خودہی قبول کررہے ہیں کہ بھارت نے فائدے اُٹھائے اور یہ ثابت ہو گیا کہ ان کی نظریہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی مگر قائد نہ جھکے اور نہ مغلوب ہوئے اور پاکستان نقصان سے محفوظ ہوگیا۔1938ءمیں قائد نے کہا تھا:
”مسلمان جھکنے کے لئے پیدا نہیں ہوا اگر اس کو جھکانے کی کوشش کی تو یہ بابر بن جائے گا۔یہ ٹیپو کی صورت میں نمودار ہو گا۔یہ مرجائے گا محکوم کی محکومی قبول نہ کرے گا۔ یہ اس کی فطرت کے خلاف ہے۔یہ غلام کاغلام ۔بنے کیسے انگریز کی غلامی سے نجات حاصل کر کے ہندو کی غلامی میں آجائیں۔“
لہٰذا قائداعظم لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے دباﺅ میں نہیں آسکے۔13جولائی1947ءکو دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں قائداعظم نے بحیثیت گورنر جنرل پاکستان کے اقلیت کے لئے ہر طرح کے تحفظ کااعلان کیا اور کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے گورنر جنرلوں کا انتخاب حکومتوں کی ذمہ دار جماعتوں کانگریس اور مسلم لیگ نے کیا ہے اور واضح کردینا چاہتا ہوں کہ گورنر جنرلوں کا انتخاب درحقیقت صحیح معنوں میں بادشاہ نے نہیں بلکہ عوام نے کیا ہے۔ قائداعظم نے کہا:
”یہ تو صرف ایک اصول ہے اور ایک پرانے قاعدہ کے تحت ہوا۔ دراصل گورنر جنرل کا تقرر تو عوام نے کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اس عہدہ کو قبول کیا۔“
15اگست1947ءکو صبح ساڑھے 9بجے قائد اعظم نے گورنر جنرل پاکستان کے عہدے کاحلف اٹھایا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرعبدالرشید نے حلف لیا۔



