انٹرنیشنل

ماحولیاتی تبدیلی

زمین اپنے اوپر بسنے والوں سے نہ بحث کرتی ہے، نہ مطالبات کرتی ہے، زمین بس اشارے دیتی ہے۔ غیر معمولی بڑھتا درجہ حرارت، بے موسم شدید بارشیں، پگھلتے گلیشئیر، سیلاب اور سمندر کی سالانہ تیزی سے اوپر جاتی سطح۔ یہ اشارے بتاتے ہیں کہ زمین کتنی تکلیف سے گزر رہی ہے اور اس میں آباد وجود کس تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔

عالمی یوم ماحولیات 5 جون کو اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے تحت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1973 میں کیا گیا۔ جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے افراد میں ماحول کے تحفظ کیلئے شعور و آگاہی پیدا کرنا تھا۔

پاکستان میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے۔ پانچ دہائی قبل ملک میں موسم انتہائی متوازن تھا۔ گرمی، سردی اور بارشیں معتدل ہوتی تھیں اب اس میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو موسمی تغیرات سے شدید متاثر ہیں، جب سے اب تک موازنہ کیا جائے تو یہ صورت حال سامنے آتی ہے:

درجہ حرارت

1973 میں پاکستان میں اوسط درجہ حرارت آج کے مقابلے میں کافی متوازن تھا شدید گرمی ہوتی تھی لیکن شدید ترین گرمی یا ہیٹ ویو بہت کم عرصے کیلئے ہوتا تھا، سردیاں اپنے وقت پر شروع ہوتی تھیں جن کا دورانیہ طویل ہوتا تھا۔

اب اپریل اور مئی ہی سے شدید ترین گرمی اور ہیٹ ویوز شروع ہو جاتی ہیں۔ سردیوں کا دورانیہ کم ہوکر بہت مختصر رہ گیا ہے۔

مون سون اور بارشیں

سال 1973میں بارشیں موسم کے مطابق برسات کے مہینوں میں ہوتی تھیں جس کی شدت زمین اور دریا بآسانی برداشت کرلیتے تھے، آج 2026 میں بارشوں کا پورا پیٹرن غیر متوقع ہوگیا ہے جس میں عرصہ دراز تک خشک سالی رہتی ہے یا پھر تھوڑے وقت میں اتنی شدید بارش ہوتی ہے کہ اربن فلڈنگ ،کلاؤڈ برسٹ جیسی صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ جس کے باعث شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑجاتا ہے۔

ساحلی اور میدانی علاقوں میں بارش میں 10 سے 15 فیصد تک کمی آئی ہے لیکن جب ہوتی ہے تو طوفانی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

گلیشئیرز

1973 میں شمالی علاقہ جات میں واقع گلیشئیرز (ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش) قدرتی طور پر سست رفتاری سے پگھلتے تھے۔ جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ متوازن رہتا تھا۔

اب 2026 میں درجہ حرارت عالمی سطح پر بڑھنے سے گلیشئیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے پھٹنے کے باعث آنے والا سیلاب پہاڑی علاقوں میں تباہی پھیلاتا ہے۔

ساحلی علاقے اور سطح سمندر

1973 میں سمندر کراچی اور بدین میں اپنی حدود میں تھا ساحل پر موجود Mangroves کی وجہ سے سمندر اپنی حد سے آگے نہیں بڑھتا تھاجبکہ 2026 میں ساحل سمندر کی سطح کراچی میں 1.1 ملی میٹر سالانہ کی رفتار سے بڑھ لگی اور کچھ سالوں سے یہ رفتار بڑھ کر سالانہ 3.6 ملی میٹر تک پہنچ گئی ہے، سمندر کا پانی زرعی زمینوں کیلئے نقصان کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے زراعت متاثر ہورہی ہے۔

پاکستان میں نصف دہائی میں ماحول کی اتنی بڑی تبدیلیاں بلاوجہ نہیں ہے اس کی کچھ ٹھوس وجوہات ہیں جیسے کہ :

عالمی وجوہات

اس وقت دنیا کے ہرخطے میں ماحولیاتی تبدیلیاں رونما پوری ہیں جس کا قصور وار پاکستان نہیں ہے لیکن متاثرین میں پاکستان شامل ہے جس میں دو اہم عوامل ہیں۔

گرین ہاؤس گیس :

بڑے صنعتی ممالک ( امریکہ، چین اور یورپی ممالک) کی فیکٹریوں ، پاور پلانٹ اور ٹریفک کا دھواں اتنا ذیادہ ہے جس نے فضا میں ایک کمبل کی مانند موٹی تہہ بنا لی ہے، یہ تہہ سورج کی گرمی کو زمین سے باہر نہیں نکلنے دیتی جس کے باعث پوری دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں موجود گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

جغرافیائی محل وقوع

پاکستان محل وقوع کے اعتبار سے جس جگہ واقع ہے وہاں گلیشئیر کا ذخیرہ پایا جاتا ہے اور خط استوا کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ زون اپنے اندر گرمی تیزی سے جذب کرتا ہے. اس وجہ سے جب عالمی درجہ حرارت بڑھتا ہے تو اس کا شدید اثر پاکستان پر پڑتا ہے اور پاکستان کے موسم اور گلیشئیر متاثر ہوجاتے ہیں۔

اس کی مقامی وجوہات یہ ہیں:

کنکریٹ کا استعمال

پاکستان کے بڑے شہروں ( کراچی، لاہور فیصل آباد) میں بڑھتی آبادی کے باعث درختوں، زرعی زمینوں کو کاٹ کر سوسائٹیز، پلازے، پل اور سڑکیں بنادی گئی ہیں. تارکول اور کنکریٹ مل کر حرارت جذب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے اور شہر ہیٹ آئی لینڈ بن جاتا ہے یعنی گردونواح کے دیہات سے شہر کا درجہ حرارت 4 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوتا ہے۔

جنگلات کا خاتمہ

کسی بھی ملک میں 25% حصہ جنگلات پر مشتمل ہوتا ہے جو زمین کے درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھتا ہے. پاکستان میں درخت اور جنگل کاٹنے کی وجہ سے یہ حصہ صرف 4 سے 5 فیصد تک رہ گیا ہے۔ درخت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں فضا کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں اور ہوا میں تازگی برقرار رکھتے ہیں لیکن پانچ دہائیوں میں بجائے درخت لگانے کے کاٹنے پر زیادہ عمل ہوا ہے۔

آبادی میں اضافہ

پاکستان کی 1973 میں آبادی تقریباً سات کروڑ تھی جو کے اب 24 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے ٹریفک، ائیر کنڈیشنز ، پاور پلانٹس، فیکٹریوں اور کچرا جلانے میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس سے فضا میں آلودگی بڑھی ہے. افراد کو مختلف بیماریوں اور اسموگ کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ساحلی پٹی

کراچی اور سندھ کی ساحلی پٹی پر موجود تیمر کے جنگلات (مینگرووز) قدرتی طور پر گرمی اور سمندری طوفان کے سامنے ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ کچھ سالوں سے لکڑی کاٹنے اور ساحل کے اطراف کی زمین رہائشگاہ میں تبدیل کرنے کے باعث جنگلات بہت کم رہ گئے ہیں۔ جس سے ساحلی علاقوں کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور سمندری کٹاؤ میں تیزی آگئی ہے۔

ان سب وجوہات نے مل کر پاکستان کو ماحولیات کے بحران میں لاکھڑا کیا ہے، اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کئیے جائیں تو مزید تباہی سے بچا جا سکتا ہے جیساکہ:

شہری جنگلات کاری و سبزہ زار کا فروغ

شہروں کے خالی پلاٹس، پارکس، اور سڑکوں کے کناروں پر جاپانی تیکنیک کے میاواکی جنگلات بنائے جائیں یہ عام درختوں کے مقابلے میں زیادہ گھنے ہوتے ہیں اور شہر کا درجہ حرارت 3 سے 4 ڈگری کم کر دیتے ہیں۔ عمارتوں اور گھروں کی چھت پر پودے لگائے جائیں تاکہ کنکریٹ سورج کی گرمی جذب نا کرے۔

توانائی کی منتقلی

پاکستان میں دھواں دینے والے وسائل ( کوئلہ ،گیس، تیل) کو چھوڑ کر قدرتی وسائل کے ذریعے توانائی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ ملک میں دھوپ اور ساحلی ہوا کی فراوانی ہے بجلی کے نظام کو شمسی و بادی توانائی پر نیز گاڑیوں کو پیٹرول کے بجائے الیکٹرک پر منتقل کیا جائے تاکہ دھویں کا اخراج کم سے کم ہو جس سے فضائی آلودگی اور اسموگ ختم ہوسکے۔

ساحلی پٹی کی حفاظت

سمندری پودے اور جنگلات عام درختوں کے مقابلے میں 10 گنا ذیادہ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے "بلو کاربن” کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے ساحل پر ان کی بڑے پیمانے پر کاشت کاری کی جائے تاکہ یہ زمین کا درجہ حرارت کم کریں اور سمندری طوفان سے شہر کو مخفوظ رکھ سکیں۔

گلیشئیرز

پاکستان میں گلیشئیرز پگھلنے اور پٹھنے کی وجہ سے شدید سیلاب آجاتا ہے اس کا پانی محفوظ کرنے کیلئے زیر زمین ٹینک اور اسپنج سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ زمین خود پانی جذب کر لے اور پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہوجائے۔

بین الاقوامی موسمیاتی فنڈنگ

پاکستان عالمی ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار نہیں ہے لیکن اس وجہ سے براہ راست اثر انداز ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر ملنے والے موسمیاتی فنڈ (لاس اینڈ ڈیمیج) کے حصول کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں اور اس سے حاصل ہونے والے فنڈ سے سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پورے کئے جائیں اور حفاظتی اقدامات ( جنگلات کا قیام، قدرتی توانائی پر منتقلی ، نئے شہروں کی آبادکاری) کئیے جائیں۔

یاد رکھیں! موسمی تغیرات اور ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کیلئے صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ انفرادی سطح پر بھی اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہیں ورنہ یہ بحران بہت بڑی تباہی کا باعث بن جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker