
وزیر اعظم شہباز شریف کا ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں انہوں نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر انہیں اعتماد میں لیا ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے انور ابراہیم سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے ، پاکستان نے افغان حکام کی درخواست پر دوحہ میں مذاکرات کے لیے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ افغان حکام کو چاہیے کہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحال کے لیے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں ، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
اس موقع پر ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر اظہارِ تشویش کیا اور کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش ، کی ۔
اس کے علاوہ دونوں وزرائے اعظم نے رابطے میں رہنے پر اتفاق بھی کیا۔



