پسنی: اسکول کی خستہ حالی بے نقاب کرنے پر طلباء پر تشدد، چربندن ہائی اسکول انتظامیہ کے خلاف شدید ردعمل
پسنی،اسکول کی ویڈیو کیوں بنائی،چربندن اسکول انتظامیہ کی طالب علموں پر چڑھائی،ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا طالب علموں کا الزام

گورنمنٹ ہائی اسکول چربندن تحصیل پسنی میں اسکول کی حالت زار سوشل میڈیا میں سامنے لانے پر اسکول انتظامیہ نے انہی بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا لیا۔
گزشتہ روز ا سکول کے طلباء نے اپنے اسکول کی خستہ حالی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ کلاس رومز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ تک دستیاب نہیں، کلاس رومز میں پنکھے نہیں ہیں اور شدید گرمی کی وجہ سے بچے بے ہوش ہو رہے ہیں اس کے علاوہ بجلی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے فوراً بعد اسکول انتظامیہ نے ان بچوں کو طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ تم نے ویڈیو کیوں بنائی۔ اس دوران بچوں پر تشدد بھی کیا گیا اور گالم گلوچ بھی کی گئی۔
طلباء کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے اسکول کی بدحالی کی نشاندہی کرنا چاہتے تھے تاکہ متعلقہ حکام اس طرف توجہ دیں لیکن اس کے بدلے انہیں سزا مل رہی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ہائی اسکول چربندن کی موجودہ حالت انتہائی خراب ہے کلاس رومز کی دیواریں اور چھت ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ بچوں کو زمین پر بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ہے گرمی کے موسم میں پنکھوں اور بجلی کے بغیر کلاسز چلانا بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
زرائع کے مطابق حکومت نے تمام اسکولوں کو سولر سسٹم فراہم کردیا ہے تاکہ بچے سولر پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں لیکن تحصل پسنی کے بیشتر اسکولوں کے سربراہاں یہ سولر سسٹم ابھی تک انسٹال نہیں کی ہیں اور بجلی چلنے جانے کے بعد بچے سخت گرمی میں علم حاصل کررہے ہیں۔
دوسری جانب شہریوں نے چربندن کے اسکول انتظامیہ کی جانب سے بچوں کو ہراساں کرنے اُن پر تشدد کرنے کے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طلباء کی آواز کو دبانے کی بجائے اسکول کی مرمت اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اس معاملے پر محکمہ تعلیم بلوچستان اور صوبائی حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اسکول کا فوری دورہ کریں گے زمہ داران کے خلاف کارروائی کریں گے اور بچوں کو مناسب تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک بار پھر سرکاری ا سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور طلباء کے حقوق کی خلاف ورزی اور مثبت آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔



