بلوچستانتازہ ترین

“ان سے میرا پردہ ہے۔” یاسر آسان والا

یہ حمنہ صدیق بھٹہ ہیں، ہماری بی بی (بخت بانو)۔ شاید کچھ عرصہ بعد ہم بھی ان کی تصویر یوں پوسٹ نہ کر سکیں، کیونکہ جب انہیں کسی سے نہیں ملنا ہوتا تو بڑے اعتماد سے کہہ دیتی ہیں:
“ان سے میرا پردہ ہے۔”
وجہ یہ کہ والدہ حمنہ پردہ کرتی ہیں اور کبھی کبھار بچوں کے پوچھنے پر یہی جواب دے دیتی ہیں کہ “میرا پردہ ہے”۔ سو بچی نے بھی یہ بات سیکھ لی۔

اسامہ کی شادی کا جب ارادہ کیا تو شاید یہ ہمارے خاندان کا کم عمر ترین بچہ تھا جس کی شادی ہونے جا رہی تھی۔ اس کے اپنے ماموں زاد، خالہ زاد اس سے بڑے کنوارے تھے، بعض ایک کی تو ابھی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی تھی۔ خاندان والوں کے لیے یہ کچھ عجیب تھا، مگر ہمارے لیے ایک خواہش کی تکمیل۔

حذیفہ کب بڑا ہو گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔ جب تک سب اکٹھے رہتے تھے تو عدنان کے بچے، بچیاں ہی لگتے تھے۔ پھر کوئٹہ، اسلام آباد کی شفٹنگ اور الگ الگ رہائش نے وقت کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔

جب دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے اسامہ کی میچیورٹی دیکھتے ہوئے شادی کے حق میں رائے دی، مگر عمیر صاحب نے ایک اہم بات ساتھ جوڑ دی کہ:
“اگر کم عمری میں بچے کی شادی کر رہے ہیں تو اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے بھی تیار رہیں۔”

اب مسئلہ لڑکی کی تلاش کا تھا۔ اسامہ کی ایک ہی خواہش تھی کہ لڑکی ہو… اور ہماری ہم وزن ہو۔ جبکہ عدنان کی رائے کچھ عجیب تھی کہ “اپنے گھر کی بہت چھوٹی بچی نہ ہو۔”

یہاں ایک دوست کے ہاں کا سچا لطیفہ یاد آ گیا۔ بھائی صاحب نے مناسب عمر میں شادی نہیں کی، پھر جب گزرتی عمر میں ارادہ کیا تو بہنوں کو ایک لمبی چوڑی specification دے ڈالی: گوری ہو، کم عمر ہو، لمبی ہو وغیرہ وغیرہ۔
چھوٹے بھائی نے عرض کی:
“بھیا ایک بات رہ گئی!”
پوچھا: “وہ کیا؟”
کہنے لگا:
“اندھی بھی ہو!”
بولے: “وہ کیوں؟”
جواب ملا:
“کہاں، خود کو نہیں دیکھتے؟”

بہرحال، اب ہماری بہو، ہماری بیٹی، اپنے ابا کے گھر کی بڑی بیٹی ہیں اور ہمارے ابا کے خاندان کی بڑی بہو۔ اگرچہ ابھی تک انہیں اپنے “بڑے پن” کے جوہر دکھانے کا خاص موقع نہیں ملا، کیونکہ یہ چھ آٹھ ساسوں کی اکیلی بہو ہیں۔ جس گھر جاتی ہیں، بڑے ماتھے سے ویلکم کی جاتی ہیں اور ساسیں بچیوں کے نخرے اٹھا کر خوش ہوتی ہیں۔

بات حمنہ سے شروع ہوئی تھی۔

اپنے تجربے، دنیا کے آزمودہ اور اپنے پسندیدہ طریقۂ تعلیم “ہوم اسکولنگ” کا تجربہ حمنہ پر کرنے کا ارادہ تھا اور برملا اس کا اظہار بھی گھر میں کیا کرتا تھا۔ مگر اچانک ایک دن معلوم ہوا کہ حمنہ کی اماں انہیں جی نائن کے مدرسے میں داخل کروانا چاہ رہی ہیں۔ جب بچی کی عمر تین سال تھی۔ ہم نے بات کی تو بیٹی نے ہمیں قائل کر لیا۔

بیگم نے بہو سے تو نہیں، مگر ہم سے بھرپور احتجاج کیا کہ:
“آپ تو کچھ اور فرمایا کرتے تھے!”

عرض کی:
“یہ ان کی بچی ہے، اور کل ان سے ہی اس کی پوچھ ہونی ہے۔ ہمارے ذمہ معاونت ہے، جس کا اظہار ہم اسامہ کی شادی اور بچی کی پیدائش کے وقت کرتے رہے ہیں۔”

قریب ایک ماہ قبل حمنہ کا فون آیا:
“بڑے بابا! ہمارے گھر ٹی وی کب لگے گا؟”

ہم نے پوچھا:
“آپ لوگوں کا مشورہ ہو گیا؟”
کہا: “جی”
“جگہ کا تعین بھی ہو گیا؟”
“جی”
پوچھا:
“کس سے کہوں لگوانے کے لیے؟ تمہارے ابا سے، چاچو سے، اماں سے، دادو سے یا عدنان بابا سے؟”
بولی:
“عدنان بابا سے!”

(شاید اس کا خیال بھی یہی تھا کہ ذمہ دار آدمی ہیں، جلد لگوا دیں گے۔)

خیر، ٹی وی لگ گیا۔

پہلے ہمارے ہاں ٹی وی کیوں نہیں تھا؟ بس خیال یہ تھا کہ اس کے نہ ہونے میں خیر ہے۔ اپنے بچوں نے بھی کبھی خاص فرمائش نہیں کی۔ ایک آدھ بار اسامہ نے میڈیا وال وغیرہ کی بات کی، منع کیا تو دوبارہ ذکر نہیں کیا۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے دورِ اقتدار میں اس فن سے جڑی ہر چیز سب سے پہلے ہم ہی گھر لائے تھے۔ ڈِش، بلکہ ڈش سے پہلے سی ڈی پلیئر، پھر کیبل… اور پتہ نہیں کیا کچھ۔

جب حمنہ کی یہ تصویر موصول ہوئی تو اسی فیملی گروپ میں، جہاں تصویر آئی تھی، ہم نے ایک بھرپور نصیحت آموز پیغام ریکارڈ کر دیا اور جتلا بھی دیا کہ:
“آپ کے کہنے پر ٹی وی لگوا دیا ہے!”

ایک آدھ دن جواب نہیں آیا۔ شاید اماں کے توجہ دلانے پر جواب آیا۔ اور اس جواب کا جواب دینا آج تک ہمارے لیے ممکن نہیں ہو سکا:

“دادو بھی کان میں یہ پہن کر موبائل دیکھتی ہیں… میرا بھی نیا تماشا شروع ہو گیا ہے۔”

اب اس کی دادو کی بات کریں تو وہ آٹھ دس گھنٹے اپنے پیشہ ورانہ امور نمٹا کر آتی ہیں، تو شاید اپنا کوئی ڈرامہ وغیرہ دیکھتی ہوں گی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیوں دیکھ رہی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بچہ وہی اپنا حق سمجھتا ہے جو بڑوں کو کرتے دیکھتا ہے۔

بچوں کی تربیت نصیحتوں سے زیادہ عمل کی متقاضی ہے۔

یقین مانیے، ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا ایک بڑا سبب والدین کا غیر تربیت یافتہ ہونا ہے۔ نہ سسٹم شادی کرنے والے جوڑوں کی رہنمائی کرتا ہے اور نہ ہی بچہ پیدا کرنے والے والدین کی۔

اب ہم اپنے وزیرِ تعلیم بننے کا انتظار کیے بغیر یہ تجویز دینا چاہتے ہیں کہ ان دو امور کے باقاعدہ نصاب مرتب کیے جائیں۔
جب تک نیا شادی شدہ جوڑا تربیتی کورس مکمل نہ کرے، نکاح/نادرا رجسٹریشن نہ ہو، اور بچے کی پیدائش سے قبل Parenting Course لازمی قرار دیا جائے۔

میری رائے سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

خوش رہیں، خوشیاں بانٹیں۔
اللہ سبحان و تعالیٰ ہم سے راضی ہوں۔
آمین ثم آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker