تخت پر بیٹھنے والا دنیا کا کم عمر ترین بادشاہ انتقال کرگیا

یوگنڈا میں دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو نمبا کبمبا اگورو رُکیدی چہارم 34 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بادشاہ کی وفات کی اطلاع ملک کی وزیراعظم کی جانب سے دی گئی تاہم تورو سلطنت نے ان کی موت کی وجہ ظاہر نہیں کی۔
مقامی میڈیا کے مطابق یوگنڈا کی حکومت کے ایک وزیر نے بتایا کہ بادشاہ اویو شدید بیمارتھے اورامریکہ میں زیرعلاج تھے۔
بادشاہ اویو نے اپنے والد کی وفات کے بعد 1995 میں محض تین سال کی عمر میں مغربی یوگنڈا کی تورو سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔
ان کی کم عمری میں تخت نشینی نے انہیں عالمی سطح پر شہرت دلائی اور گنیز ورلڈ ریکارڈ نے انہیں دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ کے طور پر تسلیم کیا۔
یوگنڈا میں اگرچہ منتخب صدرکے ذریعے حکومت چلائی جاتی ہے تاہم ملک میں کئی روایتی سلطنتیں اب بھی موجود ہیں، ان سلطنتوں کے پاس سیاسی اختیارات نہیں لیکن انہیں نمایاں ثقافتی اور سماجی اثرورسوخ حاصل ہے۔
بادشاہ اویو تورو سلطنت کے 13ویں بادشاہ تھے، جس کی بنیاد انیسویں صدی کے اوائل میں رکھی گئی تھی وہ 20 لاکھ سے زائد افراد پرمشتمل آبادی کی روایتی قیادت کرتے تھے۔
تین سال کی عمرمیں تخت سنبھالنے والے اویو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تورو کی ثقافتی شناخت اورروایتی نظام کی نمائندگی میں گزارا ان کے انتقال پریوگنڈا میں سوگ کی فضا ہے۔



