روس میں مبینہ لیبارٹری حادثے کے بعد دنیا میں نئی وبا پھیلنے کا خطرہ

روس کے سائبیریا خطے میں طاعون کے ایک کیس کے بعد تشویش بڑھ گئی، جہاں پانچ طبی مراکز کو قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ قریبی ایلومینیم پلانٹ میں ملازمین کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ترکیے ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق روس کے ارکتسک ریجن میں 27 سالہ خاتون محقق کی طاعون سے موت کے بعد یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ خاتون ارکتسک کے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتی تھیں، جہاں خطرناک جراثیم پر تحقیق کی جاتی ہے۔
آزاد روسی میڈیا ادارے لیوڈی بائیکالا اور دی ماسکو ٹائمز کے مطابق قرنطینہ میں رکھے گئے طبی مراکز میں ارکتسک کے میونسپل اسپتال نمبر ایک، نمبر تین اور نمبر 10 کے علاوہ ایوانو ماتریننسکایا چلڈرن اسپتال اور ایک زچگی اسپتال شامل ہیں۔
ایک طبی ذرائع نے بتایا کہ اسپتالوں کا عملہ کھلے عام طاعون کے بارے میں بات کر رہا ہے، تاہم سرکاری دستاویزات میں بیماری کا نام باضابطہ طور پر درج نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون داریا شپیلوا کی عمر 27 سال تھی اور وہ ارکتسک اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ کی ملازم تھیں۔ علاقائی حکام نے 2 اکتوبر کو ارکتسک ریجن کی ایک خاتون کی طاعون سے موت کی تصدیق کی تھی۔
داریا شپیلوا کے طاعون کا شکار ہونے کی وجہ سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک دعوے کے مطابق 25 ستمبر کو لیبارٹری میں طاعون کے جراثیم رکھنے والی شیشی ٹوٹ گئی تھی، جبکہ دوسری اطلاع کے مطابق وہ حال ہی میں بوریاتیا کے علاقے سے کام کے سلسلے میں واپس آئی تھیں، جہاں منگولیا کی سرحد کے قریب بیماری کا ایک پھیلاؤ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
داریا کو 29 ستمبر کو نمونیا جیسی علامات کے ساتھ شیلیخوف کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا، تاہم چند روز بعد ان کی موت ہوگئی۔ بعد ازاں اس اسپتال کو بھی قرنطینہ میں ڈال دیا گیا۔
طاعون کے ممکنہ مریض سے رابطے میں آنے والے افراد کی بھی نگرانی شروع کردی گئی ہے۔ لیوڈی بائیکالا کے مطابق داریا سے رابطے میں آنے والے 197 افراد کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 189 کو طبی نگرانی کے لیے اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ ان میں 114 افراد کو ایک طبی مرکز، 63 کو دوسرے مرکز جبکہ 12 افراد کو اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یکم اکتوبر سے ان افراد کو ٹیسٹ کے لیے لے جانے والی ایمبولینسوں کے ساتھ روس کی وفاقی سیکیورٹی سروس ایف ایس بی کے اہلکار بھی موجود رہے۔
تاہم ارکتسک ریجن کے گورنر ایگور کوبزیف نے 2 اکتوبر کو کہا تھا کہ زیر نگرانی افراد میں بیماری کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں اور اب تک کیے گئے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج بھی منفی آئے ہیں۔
دوسری جانب شیلیخوف میں واقع ارکتسک ایلومینیم پلانٹ نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر ملازمین کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔
پلانٹ کے ڈائریکٹر آرٹیم فومینیخ نے ملازمین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ احتیاط کرنا نقصان سے بہتر ہے۔ انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ اگر بیماری کی کوئی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیلیخوف میں صورتحال سے متعلق متضاد معلومات بھی گردش کر رہی ہیں۔
قرنطینہ کیے گئے زچگی اسپتال میں ایک خاتون کے شوہر کو بھی ڈیلیوری کے وقت اہلیہ کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خاتون کے اہل خانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے طاعون کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شوہر کو ڈیلیوری روم میں داخل ہونے سے روک دیا، حالانکہ خاندان نے پارٹنر کی موجودگی والی پیدائش کے لیے باقاعدہ فیس بھی ادا کی تھی۔
3 اکتوبر کی صبح قریبی شہر بائیکالسک کی انتظامیہ نے شہریوں کو عارضی طور پر شیلیخوف اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی کی، تاہم بعد میں یہ سوشل میڈیا پوسٹ حذف کردی گئی۔
طاعون ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا سے پھیلتی ہے۔ یہی جراثیم تاریخ کی بڑی وباؤں میں شمار ہونے والی بلیک ڈیتھ کا سبب بھی بنے تھے۔ یہ بیماری آج بھی وسطی ایشیا، منگولیا اور سائبیریا کے بعض علاقوں میں جنگلی چوہوں اور دیگر جانوروں کی آبادی میں موجود ہے اور کبھی کبھار انسانوں میں بھی اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں روسی حکام کی جانب سے زیر نگرانی افراد کے ٹیسٹ منفی آنے کی اطلاع دی گئی ہے، تاہم طبی مراکز میں قرنطینہ اور دیگر احتیاطی اقدامات کے باعث علاقے میں عوامی تشویش بڑھ گئی ہے۔



