حافظ نعیم الرحمان نےکراچی میں ملک کے پہلے تعلیم کارڈ کا اجراء کردیا

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں ملک کے پہلے تعلیم کارڈ کا اجرا ء کردیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت گلبرگ جم خانہ کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں منعقدہ تقریب میں ٹاؤن اسکولوں کے 5 ہزار طلبہ وطالبات کو ڈیجیٹل تعلیمی کارڈ جاری کیےگئے۔کارڈ کے ذریعے طلبہ 10 ہزار روپے کی خریداری کرسکیں گے، جس میں کتابیں، کاپیاں، اسٹیشنری، یونیفارم سمیت دیگر تعلیمی اشیاء شامل ہیں۔
گلبرگ ٹاؤن کراچی کا پہلا اور واحد ٹاؤن ہے جس نے نچلی سطح پر تعلیم کو عام کرنے اور غریب و متوسط گھرانوں کے بچوں کو درپیش تعلیمی مشکلات حل کرنےکے لیے عملی اقدام کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے تقریب سے خطاب میں ٹاؤن چیئرمین نصرت اللہ اور ان کی پوری ٹیم اور تعلیمی کارڈ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون کرنے والے اہل خیر افراد اور اداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ 14 لاکھ بچے بچیاں اس پروجیکٹ میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، ہم نے اپنے 9 ٹاؤنز میں آنے والے تقریبا 50 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا ہے اور ان کی بدحالی کو ختم کرکے مثالی اسکول بنا دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تعلیم حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور بڑی بدقسمتی ہے یہ ذمہ داری پوری نہیں کی جا رہی، پورے ملک میں 2کروڑ 62 لاکھ اور سندھ میں 78 لاکھ بچے جن کی عمر اسکول جانے کی ہے وہ اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں ہم ان کو بے رحم، نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے 41 ہزار اسکولوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، ان اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر ہے نہ بنیادی سہولیات میسر ہیں، سندھ حکومت کا اربوں روپے کا بجٹ نااہلی، بد انتظامی اور کرپشن کی نذرہو جاتا ہے، جماعت اسلامی صرف دعوؤں اور اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔



