
جوڈیشل کمیشن کے روبرو اپنے بیان میں ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ نمونے بھیجنے میں تاخیر سے نتائج فالس نیگیٹیو آسکتے ہیں، کمیشن نے پوچھا 3 اگست کو آپ نے خط لکھ کر قبر کشائی کی سفارش کی تھی، جس پر پولیس سرجن نے بتایا کہ 5 اگست کو پولیس کے ساتھ میٹنگ میں بھی قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کےلیے کہا۔
کمیشن نے پوچھا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کس طرح کی جاتی ہے؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ عدالت سیکرٹری صحت یا ڈی جی ہیلتھ سروسز کو ہدایت جاری کرتی ہے، عدالت براہ راست پولیس سرجن کو بھی ہدایت جاری کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر سمیہ کا کہنا تھا میر رضا کے سر پر چوٹ کا نشان تھا، ناک کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی، میر رضا کے سر کے عقبی حصے پر سخت چیز لگنے کا نشان تھا، میر رضا کو یہ زخم اس وقت لگے جب وہ زندہ تھا، میر رضا کے چہرے کی ڈی کمپوزیشن باقی حصوں جیسی نہیں تھی۔
ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں صرف وہی معلومات شامل کی گئیں جن پر تمام ارکان متفق تھے، میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں، گولی سے میر رضا کے پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچا، سینے کے نشان کو گولی داخل ہونے کا پوائنٹ بتایا گیا وہ غلط تھا۔
ان کا کہنا تھا سیکرٹری صحت نے پرانے میڈیکل بورڈ کو بحال کیا، جس پر کمیشن نے پوچھا کہ میڈیکل بورڈ اچانک کیوں تبدیل ہوا؟ ڈاکٹر سمیہ نے کہا مجھے وجوہات کا علم نہیں، ڈپٹی سیکرٹری صحت نے زبانی ہدایت دی کہ آپ کو میڈیکل بورڈ سے علیحدہ ہونا چاہیے، میں نے بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر میں میرا نام شامل ہے۔
پولیس سرجن کا کہنا تھا 8 اگست کو قبر کشائی کی کارروائی میں صرف پرانی ٹیم موجود تھی، ہم نے کسی غیر متعلقہ فرد کو اجازت نہیں دی، ہم نے فیملی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تھی، کیونکہ فیملی کے لیے وہاں موجود رہنا بہت پریشان کن ہوسکتا تھا۔
انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ پر تمام ارکان کے دستخط تھے، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گن شاٹ ریسیڈیو کے نمونے حاصل نہیں کیے گئے، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گولی کے زخم کے سائز کا اندراج غلط تھا، گولی کے داخلے کا نشان چھوٹا اور صاف ہوتا ہے، گولی باہر نکلنے کے نشان بڑا ہوتا ہے، 10 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نقائص سے متعلق خط بھیجا، ڈی کمپوزیشن کا مرحلہ پوری باڈی میں الگ الگ ہوتا ہے، میر رضا کے چہرے پر ڈی کمپوزیشن کہیں پر موجود تھی اور کہیں پر نہیں، میر رضا کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات تھے، کیمیکل ایگزامنیشن کی رپورٹ میں تیزاب کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، گولی کے باہر نکلنے والے زخم کے اطراف جلد کی سیاہ رنگت چہرے جیسی تھی۔
کمیشن نے استفسار کیا پولیس نے کیا یہ تصاویر نہیں دیکھی تھی؟ جس پر ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ پولیس نے تین بار سینے کے زخم کو گولی لگنے کا نشان بتایا۔



