پاکستان

جامعہ کراچی میں فیل طلبہ کو خلاف ضابطہ پاس کرنے کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا

جامعہ کراچی کے لاء کالجوں کے 150 فیل طلبہ کو خلاف ضابطہ پاس کرنے کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا۔

تفصیلات کے مطابق این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو جنہیں جامعہ کراچی کا قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا انہوں نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے فیل طلبہ کو اسکروٹنی کے نام پر پاس کرنے کی منظوری دیدی جب کہ اس سے قبل سبکدوش ہونے والے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اسکروٹنی کی سمری مسترد کردی تھی۔

ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی جانب سے اسکروٹنی کی تحریری سفارش اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری لے کر لاء کالجوں کے 150 کے قریب فیل طلبہ کو کم از کم 2 مضامین میں پاس کردیا ہے، ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے متعلقہ 150 سے زائد طلبہ امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے، بڑی تعداد میں ان فیل طلبہ کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بناکر بی اے ایل ایل بی میں پاس کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ طلبہ کی جانب سے ایک اجتماعی درخواست آئی تھی جب کہ یونیورسٹی اسکروٹنی کے لیے انفرادی درخواست پر کارروائی کرتی ہے، سالانہ نظام امتحانات میں اسکروٹنی کے قواعد میں صرف ری کاؤنٹنگ ہوتی ہے، کاپیوں کی ری چیکنگ نہیں کی جاتی اس لیے مذکورہ درخواست روک دی تھی۔

فرضی اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس کی روداد اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری کی شیٹس کے باعث 150 فیل شدہ طلبہ کو پاس کرنے کے اسکینڈل نے نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے بھی چیلنجز کھڑے کردیے ہیں۔

نئے وائس چانسلر اگر موجودہ ناظم امتحانات کو برقرار رکھتے ہیں تو مزید اسی طرح کے نئے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔

ادھر ایل ایل بی میں بڑی تعداد میں طلبہ ایسے ہیں جو اوبلیگیشن (obligations) اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم مارکس کے ساتھ فیل تھے، فرضی اسکروٹنی کراکے انہیں 50 سے 65 کے درمیان مارکس دے کر پاس کیا گیا۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایل ایل بی کے نتائج کے اجراء کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبہ کو پہلے فیل جب کہ اسکروٹنی کے بعد پاس کی مارک شیٹس جاری کیں۔

ذرائع کے مطابق رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو، متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی از خود ہی قائم ہوگئی، اس اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا جب کہ یونیورسٹی قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی بظاہر گنجائش نہیں۔

مزید براں 6 اگست کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے لی، وائس چانسلر سے منظوری میں other related cases کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبہ کو پاس کیا۔

وائس چانسلر سے منظوری ملتے ہی 6 اگست کو ہی ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل کی جانب سے طلبہ کو اسکروٹنی اپلائی کرنے کو کہا گیا۔

ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو کے مطابق 180 طلبہ کو اسلامیہ کالج کے ٹیچر نے فیل کیا، ہم نے اسکروٹنی کمیٹی میں لے جا کر ان طلبہ کو پاس کیا جن کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ جامعہ کراچی میں ڈین آف لاء بیرسٹر سرفراز میتلو کو جامعہ کراچی کے ایکٹ کے برخلاف تعینات کیا گیا تھا، جامعہ کراچی کے اس وقت وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے ڈین آف لاء کے لیے جو ناموں کا پینل بھیجا تھا اس میں سرفراز میلتو کا نام شامل نہیں تھا تاہم محکمہ بورڈز و جامعات نے وائس چانسلر کے بھیجے گئے ناموں کو مسترد کرکے از خود سرفراز میتلو کے نام کا نوٹیفکیشن نکال دیا تھا جب کہ وہ ڈین کے عہدے کے لیے اہل بھی نہیں تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker