پاکستان

کراچی: گلشن حدید میں فائرنگ سے پولیس افسر شہید، اہلیہ زخمی

کراچی کے علاقے گلشن حدید فیز تھری میں نامعلوم مسلح ملزم کی فائرنگ سے پولیس انسپکٹر اور سابق ایس ایچ او جاوید ابڑو شہید اور ان کی اہلیہ زخمی ہوگئی ہیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ اور اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

کراچی میں پولیس افسران بھی جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آگئے، اتوار کے روز گلشن حدید فیز تھری میں سابق ایس ایچ او جاوید ابڑو کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا جب کہ فائرنگ سے ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئیں۔

ایس ایس پی ملیر کے مطابق سابق ایس ایچ او جاوید ابڑو اپنی اہلیہ کے ہمراہ گھر کے باہر باغیچے میں بیٹھے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار اکیلے ملزم نے ان پر فائرنگ کردی جب کہ فائرنگ کے نتیجے میں جاوید ابڑو کو 7 گولیاں لگیں، جن میں سے 2 جان لیوا ثابت ہوئیں جب کہ فائرنگ سے زخمی جاوید ابڑو کی اہلیہ کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم واردات کے بعد جائے وقوعہ سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فرار ہوگیا جب کہ فائرنگ کے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق انسپکٹر جاوید ابڑو ان دنوں ایس ایس پی ملیر آفس میں تعینات تھے اور ماضی میں کراچی کے مختلف تھانوں میں بطور محافظ بھی فرائض انجام دیتے رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جاوید ابڑو کو کافی عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور ان پر ماضی میں بھی متعدد قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جب کہ ان کے بھائی اے ایس آئی محمد خان ابڑو کو سال 2025 میں عدالت سے واپسی پر گھر کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق اے ایس آئی محمد خان ابڑو کے قتل میں ملوث ملزم جعفر عرف بوبی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا جب کہ انسپکٹر جاوید ابڑو اپنے بھائی کے قتل کے مقدمے کے مدعی تھے جب کہ جاوید ابڑو کے ایک اور بھائی یاسین ابڑو ٹریفک پولیس میں انسپکٹر تعینات ہیں۔

واقعے کے بعد اعلیٰ پولیس افسران جناح اسپتال پہنچ گئے، جن میں ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار شامل ہیں۔

کراچی پولیس چیف کا مؤقف
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر جاوید ابڑو کی شہادت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، جاوید ابڑو اپنی اہلیہ کے ہمراہ گھر کے باہر بیٹھ کر چائے پی رہے تھے کہ دو افراد میں سے ایک نے فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کا حلیہ جاوید ابڑو کی اہلیہ نے بتا دیا ہے تاہم فی الحال واقعے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش کررہی ہیں۔

آزاد خان کا کہنا تھا کہ جاوید ابڑو نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کے حوالے سے کبھی آگاہ نہیں کیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں سی ٹی ڈی اور ضلعی افسران کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی جو قاتلوں ڈھونڈ کر کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

بھتیجے کی انصاف کی اپیل
جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جاوید ابڑو کے بھتیجے جہانزیب نے بتایا کہ وہ ڈیوٹی پر موجود تھے جب انہیں فون پر فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ان کے چچا اے ایس آئی محمد خان ابڑو کو بھی شہید کیا جاچکا ہے اور اب خاندان کے دوسرے فرد کو قتل کردیا گیا ہے۔

جہانزیب نے آرمی چیف، آئی جی سندھ اور حکومت سندھ سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جاوید ابڑو فائرنگ کے وقت گھر کے باہر باغیچے میں موجود تھے، ان کے 4 بچے ہیں۔

بھائی کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
انسپکٹر جاوید ابڑو کے بھائی یاسین ابڑو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی دھرتی پر جان دینے کے لیے تیار ہیں، میرے 2 بھائی شہید کردیے گئے لیکن میں بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وزیر داخلہ سندھ کا نوٹس
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے اسٹیل ٹاؤن میں فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے تفصیلات طلب کرلیں۔

وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ فائرنگ میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے، واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں جب کہ امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker