فیفا ورلڈ کپ: گولڈن بوٹ کسے ملے گا؟ میسی، ایمباپے اور ہالینڈ دوڑ میں شامل

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں صرف دو گروپ میچوں کے بعد ہی گولڈن بوٹ کی دوڑ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ارجنٹائن کے لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ٹورنامنٹ میں گولز کی غیر معمولی رفتار نے اس امکان کو بھی مضبوط کر دیا ہے کہ اس بار گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے 2 ہندسوں میں گولز درکار ہو سکتے ہیں، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جارہے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ اب تک کی دلچسپ ترین دوڑ بنتی جا رہی ہے، جہاں دنیا کے بڑے اسٹارز ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دو میچوں کے بعد ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سب سے آگے ہیں جب کہ کیلیان فرانس کے ایمباپے اور ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ 4،4 گولز کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
جرمنی کے ڈینیز اونداو 3 گولز کر چکے ہیں جب کہ کینیڈا کے جوناتھن ڈیوڈ نے قطر کے خلاف ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کے بعد اپنے گولز کی تعداد بھی 3 کر لی ہے۔
اس کے علاوہ مزید 20 کھلاڑی ایسے ہیں، جنہوں نے ابتدائی دو میچوں میں دو، دو گول کیے ہیں۔ ان میں انگلینڈ کے ہیری کین، پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو، برازیل کے ونیسیئس جونیئر اور اسپین کے میکل اویارزابال بھی شامل ہیں۔
کیا دو ہندسوں میں گولز کا ریکارڈ بن سکتا ہے؟
ورلڈ کپ 2026 میں اب تک ہونے والی گول اسکورنگ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ گولڈن بوٹ جیتنے کے لیے ممکنہ طور پر 10 یا اس سے زیادہ گولز درکار ہوں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں انتہائی کم مواقع پر دیکھنے میں آیا ہے۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک صرف 3 کھلاڑی ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے ایک ہی ایڈیشن میں 10 یا اس سے زیادہ گولز اسکور کیے۔ 1954 کے ورلڈ کپ میں ہنگری کے سینڈور کوچیش نے یہ کارنامہ انجام دیا، 1958 میں فرانس کے جسٹ فونٹین نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں 13 گولز کرکے عالمی ریکارڈ بنایا، جو انہوں نے صرف 6 میچوں میں بنایا تھا اور آج بھی قائم ہے جب کہ 1970 کے ورلڈ کپ میں جرمنی کے گیرڈ مولر بھی دو ہندسوں میں گولز کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل تھے۔
2026 ورلڈ کپ میں پہلی بار 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث سیمی فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں کو 8 میچ کھیلنے کا موقع ملے گا، یوں گولز کے نئے ریکارڈ بننے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔
گزشتہ ورلڈ کپس میں گولڈن بوٹ کتنے گولز پر جیتی گئی؟
2006 کے جرمنی ورلڈ کپ اور 2010 کے جنوبی افریقا ورلڈ کپ میں صرف پانچ گولز کے ساتھ گولڈن بوٹ جیتی گئی تھی، اس کے علاوہ گزشتہ 13 ورلڈ کپ ایڈیشنز کے دوران کوئی بھی کھلاڑی 8 سے زیادہ گولز اسکور نہیں کر سکا۔ اس عرصے میں صرف 2 کھلاڑی 8 گولز کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں برازیل کے رونالڈو نے 2002 کے ورلڈ کپ میں جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں یہ سنگِ میل عبور کیا تھا۔
2026 ورلڈ کپ میں اتنے زیادہ گول کیوں ہو رہے ہیں؟
اس ورلڈ کپ میں صرف 33 میچوں میں 100 گولز مکمل ہو گئے، جو 1954 کے بعد تیز ترین رفتار ہے۔ پرتگال کی ازبکستان کے خلاف 5-0 فتح کے بعد پہلے 45 میچوں میں مجموعی طور پر 139 گولز ہو چکے ہیں، جو گروپ مرحلے میں کسی بھی ورلڈ کپ کے پہلے 45 میچوں کا نیا ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل 2014 برازیل ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے کے دوران 136 گولز ہوئے تھے تاہم اس مرتبہ یہ ریکارڈ 3 میچ پہلے ہی ٹوٹ گیا۔
ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ 172 گولز کا ریکارڈ قطر میں ہونے والے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں قائم ہوا تھا جہاں مجموعی طور پر 64 میچوں میں یہ گولز اسکور کیے گئے تھے تاہم 2026 کے ورلڈ کپ میں گزشتہ ایڈیشن کے مقابلے میں 40 اضافی میچز شامل کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی کہ مجموعی گولز کا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔
زیادہ گولز کی وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق اس بار گولز کی تعداد بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ فیفا نے اس ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس کی نئی ٹریونڈا (Trionda) گیند متعارف کرائی ہے، جس میں ایسی تکنیکی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو اسے زیادہ تیز رفتار اور مستحکم بناتی ہیں۔
آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کہا کہ یہ گیند ”توپ کے گولے“ کی طرح تیز ہے اور اگر درست انداز میں کک کی جائے تو گول کیپر کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہر ہاف میں واٹر بریک (Hydration Break) شامل کیے جانے سے کھلاڑی زیادہ دیر تک مکمل فٹنس کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جس کے باعث خاص طور پر آخری لمحات میں گولز کی تعداد بڑھی ہے۔
48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث ابتدائی مرحلے میں نسبتاً کمزور اور مضبوط ٹیموں کے درمیان مقابلے بھی زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں، جس سے بڑے اسکور سامنے آ رہے ہیں۔
کولمبیا کے کوچ نیسٹر لورینزو کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ریفریز کی جانب سے اٹیکنگ کھلاڑیوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تحفظ حاصل ہے، جبکہ 20 یا 30 سال پہلے سخت جسمانی کھیل عام تھا، جس سے فارورڈز کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں۔
گولڈن بوٹ جیتنے کا مضبوط امیدوار کون؟
موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے لیونل میسی گولڈن بوٹ جیتنے کے سب سے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ 38 سالہ میسی نے گزشتہ ورلڈ کپ میں 7 گولز کیے تھے اور اب مسلسل 6 ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ قطر ورلڈ کپ کے تمام ناک آؤٹ میچوں میں گول کرنے کے بعد انہوں نے اس ایڈیشن کے پہلے دو میچوں میں بھی گول کیے ہیں۔
اگرچہ آسٹریا کے خلاف وہ ایک پنالٹی بھی ضائع کر بیٹھے، بصورت دیگر وہ مسلسل دوسری ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر سکتے تھے۔ ارجنٹائن اپنا آخری گروپ میچ پہلے ہی ایونٹ سے باہر ہونے والی اردن کے خلاف کھیلے گا تاہم گروپ میں پہلی پوزیشن یقینی ہونے کے باعث میسی کو آرام دیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
ناک آؤٹ مرحلے میں ارجنٹائن کو نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے، جہاں آخری 32 میں یوراگوئے یا کیپ وردے، پری کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا یا ایران جب کہ کوارٹر فائنل میں کروشیا یا کولمبیا سے مقابلہ متوقع ہے۔ سیمی فائنل میں ممکنہ طور پر انگلینڈ، برازیل، جاپان، ناروے یا میکسیکو جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کیلیان ایمباپے بھی گولڈن بوٹ کے مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔ فرانس کا آخری گروپ میچ ناروے کے خلاف ہوگا، جو گروپ آئی میں پہلی پوزیشن کا فیصلہ کرے گا۔ اگر فرانس گروپ فاتح بنتا ہے تو اسے ناک آؤٹ مرحلے میں نسبتاً آسان راستہ مل سکتا ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آنے کی صورت میں آئیوری کوسٹ، برازیل، جاپان اور ممکنہ طور پر انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرلنگ ہالینڈ نے ناروے کے لیے 52 بین الاقوامی میچوں میں 59 گولز کر رکھے ہیں تاہم ان کی گولڈن بوٹ کی امیدوں کا انحصار بھی ناروے کی ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی پر ہوگا۔
انگلینڈ کے ہیری کین پاناما کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنی گولز کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے جب کہ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کے لیے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں واپسی آسان دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ان کے سامنے کولمبیا، گھانا اور ممکنہ طور پر اسپین جیسے سخت حریف آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب برازیل کے ونیسیئس جونیئر اسکاٹ لینڈ کے خلاف آخری گروپ میچ میں اپنے دو گولز میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے تاہم ناک آؤٹ مرحلے میں ان کے لیے مقابلہ زیادہ سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



