انٹرنیشنل

اسرائیل میرے ایک اشارے پر غزہ پر حملہ کردے گا: صدر ٹرمپ نے دوبارہ دھمکی دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ غزہ پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل میرے ایک اشارے پر غزہ پر حملہ کردے گا، حماس جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے، اگر حماس نے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو اسے دوبارہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز جیسے ہی میں کہوں گا دوبارہ سڑکوں پر آ سکتی ہیں۔ جو کچھ حماس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ جلد ہی ٹھیک کر لیا جائے گا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی اس شرط پر عمل نہیں کر رہی جس کے تحت اسے تمام مغویوں کو زندہ یا مردہ واپس کرنا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، حماس کی جانب سے لاشوں کی کم تعداد کی واپسی کے باعث غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو کم یا مؤخر کیا جا رہا ہے تاہم اب تک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے نکتہ نمبر 4 میں کہا گیا تھا کہ’ اسرائیل کی جانب سے معاہدہ عوامی طور پر قبول کیے جانے کے 72 گھنٹے کے اندر، تمام مغویوں زندہ اور مردہ کو واپس کر دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ غزہ پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل میرے ایک اشارے پر غزہ پر حملہ کردے گا، حماس جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے، اگر حماس نے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو اسے دوبارہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے کی اپنی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو غزہ میں فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے پر غور کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز جیسے ہی میں کہوں گا دوبارہ سڑکوں پر آ سکتی ہیں۔ جو کچھ حماس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ جلد ہی ٹھیک کر لیا جائے گا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ معاہدے کی اس شرط پر عمل نہیں کر رہی جس کے تحت اسے تمام مغویوں کو زندہ یا مردہ واپس کرنا تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، حماس کی جانب سے لاشوں کی کم تعداد کی واپسی کے باعث غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو کم یا مؤخر کیا جا رہا ہے تاہم اب تک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے نکتہ نمبر 4 میں کہا گیا تھا کہ’ اسرائیل کی جانب سے معاہدہ عوامی طور پر قبول کیے جانے کے 72 گھنٹے کے اندر، تمام مغویوں زندہ اور مردہ کو واپس کر دیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker