دلچسپ و عجیب

چین میں عمارت کی چھت سے ہونیوالی مصنوعی بارش نے گرمی کا مسئلہ حل کردیا

دنیا کے بیشتر ممالک میں دہائیوں سے موسم گرما سے مقابلے کے لیے ایئر کنڈیشنرز (اے سی) کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مگر چین میں اب پرہجوم اپارٹمنٹ بلڈنگز میں شدید گرم موسم کے دوران درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے کے لیے نئے طریقوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے ایک طریقہ کار حالیہ دنوں میں کافی وائرل ہوا ہے۔

چین کے صوبے شنسی کے علاقے یونچینگ میں ایک بلند و بالا اپارٹمنٹ کے رہائشیوں کو اب اے سی کی ضرورت نہیں رہی۔

درحقیقت عمارت کی چھت سے مصنوعی بارش ہوتی ہے جو عمارت کے اردگرد موجود فضا اور سطح کے درجہ حرارت کو چند منٹوں میں 5 سے 8 سینٹی گریڈ تک کم کر دیتی ہے۔

چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے لیے سنسر پر مبنی مسٹنگ سسٹم استعمال کیا جارہا ہے جو چھت پر موجود ٹونٹیوں سے پانی کا اخراج ہوتا ہے۔

پانی کی یہ بوندیں عمارت کے نیچے گرتی ہیں اور بالکل بارش جیسے تجربے کا احساس ہوتا ہے۔

اس مصنوعی بارش کا نظام تبخیری ٹھنڈک کے سائنسی اصول پر کام کرتا ہے، یعنی بہت باریک پھوار کو فضا میں چھوڑا جاتا ہے اور یہ بوندیں بخارات بن کر اڑنے کے بعد اردگرد کی فضا میں موجود حرارت کو جذب کرکے اسے ٹھنڈا کر دیتی ہیں۔

یہ کچھ اسی طرح کا عمل ہے جس طرح پسینہ ہمارے جسموں کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

اس نظام کو بہت گرم دنوں میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ چھت سے نکلنے والا پانی گرم ہوا سے رابطے میں آکر بخارات بن کر اڑ سکے۔

اس عمل میں اے سی کے مقابلے میں توانائی بھی بہت کم خرچ ہوتی ہے۔

اس طرح کے سسٹم کو چین میں مختلف پارکوں، پلازوں اور بس اسٹاپس میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker