باغات اور گھر مسمار کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا ،بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کی جاسکتی ہے، امن نہیں، سر سرداران سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی

باغات اور گھر مسمار کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا، بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کی جاسکتی ہے، امن نہیں، نواب اسلم رئیسانی۔
*کوئٹہ : سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی نے مستونگ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنے، لوگوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے اور گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنے کے اقدامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔*
*نواب اسلم خان رئیسانی نے اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ پھلدار باغات کی کٹائی، لوگوں کی بے دخلی اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کی تباہی قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے۔*
*انہوں نے کہا کہ اگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہو چکا ہوتا۔*
*نواب اسلم رئیسانی نے ماضی کی فوج کشیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں کا نتیجہ امن کے بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔*
*انہوں نے مزید کہا کہ فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کرے، بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، امن نہیں۔*
*سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل اور باعزت و باوقار مکالمے کے ذریعے ہی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
باغات اور گھر مسمار کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا ،بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کی جاسکتی ہے، امن نہیں، سر سرداران سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی



