صحت

دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنے میں مددگار آسان ترین عادات

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی کی رفتار بڑھ جاتی ہے مگر چند عام چیزوں کے ذریعے آپ اس کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

روزانہ اخبار یا کتاب کا مطالعہ کرنے سے عمر کے ساتھ آنے والی دماغی تنزلی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل نیورولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ کو متحرک کرنے والی سرگرمیوں جیسے مطالعہ، لکھنا یا نئی زبان سیکھنے سے الزائمر امراض سے متاثر ہونے اور دماغی تنزلی کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ دماغی سرگرمیوں کو معمول بناتے ہیں، ان میں الزائمر امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ 38 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح دماغی تنزلی کی رفتار بھی دیگر افراد کے مقابلے میں کافی سست ہو جاتی ہے۔

اس تحقیق میں 1939 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 80 سال تھی اور آغاز میں تمام افراد ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔

ان افراد کی صحت کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا۔

تحقیق کے اختتام تک 551 افراد میں الزائمر امراض کی تشخیص ہوئی جبکہ 719 معمولی دماغی تنزلی سے متاثر ہوئے۔

بعد ازاں محققین نے دماغی طور پر سب سے متحرک رہنے والے افراد کے ڈیٹا کا موازنہ دماغی سرگرمیوں سے دور رہنے والے افراد سے کیا تو معلوم ہوا کہ مطالعہ، لکھنے یا ایسی دیگر سرگرمیاں الزائمر سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اس سے قبل ستمبر 2024 میں جرنل Cognitive Enhancement میں شائع تحقیق میں عندیہ دیا گیا تھا کہ اکثر مطالعہ کرنا ذہنی تنزلی کے عمل کو ریورس کردیتا ہے اور اس سے الزائمر یا ڈیمینشیا جیسے امراض سے تحفظ مل سکتا ہے۔

تحقیق میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ جسمانی اور ذہنی سرگرمیاں ذہنی تنزلی کی روک تھام میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق مطالعہ (اخبارات، جرائد یا کتابوں کا)، گیمز کھیلنا (شطرنج، بورڈ گیمز یا تاش) اور دماغی معمے حل کرنے جیسی سرگرمیوں سے دماغ کو جوان رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق میں لگ بھگ 6 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو معمولی دماغی تنزلی کے شکار تھے۔

ان افراد کی صحت کا جائزہ 8 سال تک لیا گیا اور انہیں دماغی تنزلی کو مدنظر رکھ کر 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دماغ کو مصروف رکھنے والی سرگرمیوں سے یادداشت، توجہ اور دماغی تجزیہ کرنے کی رفتار جیسی صلاحیتوں کو فائدہ ہوا۔

تینوں گروپس میں شامل افراد میں دماغی تنزلی کی رفتار سست ہوگئی۔

تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ روزمرہ کی سرگرمیوں سے بھی دماغ کو تیز بنانے میں مدد مل سکتی ہے اور عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔

کم از کم ان افراد کے لیے یہ بات درست ہے جو معمولی دماغی تنزلی کا سامنا کررہے ہوتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ دماغ کو مصروف رکھنے والی عام سرگرمیوں سے دماغی افعال کو فائدہ ہوتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker