جگر کے عام ترین لاعلاج مرض سے تحفظ فراہم کرنے والا آسان ترین طریقہ
جگر پر چربی چڑھنے کا مرض ایک دائمی عارضہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے۔

عام طور پر اس بیماری کے لیے نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز یا میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی عام ترین قسم ہے۔
اس بیماری کے دوران جگر بہت زیادہ مقدار میں چربی ذخیرہ کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج نہ ہو تو اس کے افعال تھم جاتے ہیں۔
جگر کی اس بیماری کے نتیجے میں میٹابولک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 اور موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
دنیا بھر میں 38 فیصد افراد جگر کے اس عارضے سے متاثر ہیں اور اس کا کوئی علاج بھی موجود نہیں۔
مگر اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اس سے خود کو آسانی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، بس پھلوں اور گریوں کے استعمال کو عادت بنالیں۔
یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پھلوں اور گریوں کا استعمال جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے سے متاثر ہونے سے بچاتا ہے۔
اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے اور دریافت ہوا کہ انار، بیریز، انگور اور اخروٹ وغیرہ میں پائے جانے والے Ellagic ایسڈ سے جگر کو اس عام عارضے سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ ایسڈ اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات سے لیس ہوتا ہے اور ورم سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
محققین کے مطابق درحقیقت پھلوں اور گریوں میں موجود یہ ایسڈ جگر پر چربی چڑھنے سے ہونے والے نقصان کو بھی ریورس کرسکتا ہے، مگر اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ غذا صحت کے لیے اہم ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے تنائج جرنل مالیکیولر نیوٹریشن اینڈ فوڈ ریسرچ میں شائع ہوئے۔



