
زیارت پولیس فورس کے اہلکاروں کے مبینہ اغوا کے خلاف لواحقین نے گزشتہ رات سے زیارت کراس کے مقام پر این 50 نیشنل ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کر رکھا ہے۔
سڑک کی بندش کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی عمل میں نہیں آتی اس وقت تک زیارت کراس پر احتجاج اور نیشنل ہائی وے کی بندش جاری رہے گی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق اغوا کیے گئے اہلکاروں میں سے بیشتر کو مبینہ طور پر شہید کر دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال متعلقہ احکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔



