اسرائیل نے غزہ میں پانچ سالہ معصوم بچی ہند رجب کے قتل کا اعتراف کرلیا، تحقیقات کا آغاز

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ 2024 میں غزہ میں پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب اور اس کے خاندان کو لے جانے والی گاڑی پر اس کے فوجیوں نے فائرنگ کی تھی۔ فوج نے واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف اس نوعیت کی تحقیقات شاذونادر ہی سزا یا فردِ جرم تک پہنچتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ہند رجب کی ہلاکت غزہ میں جاری جنگ کے دوران شہریوں کی ہلاکت کے ان واقعات میں شامل ہے جنہوں نے عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل کی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب 2023 میں جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
ہند رجب کئی گھنٹوں تک گاڑی میں پھنسی رہی اور فلسطینی امدادی کارکنوں سے فون پر مدد کی درخواست کرتی رہی، جبکہ اس کی خالہ، خالو اور تین کزن پہلے ہی ہلاک ہوچکے تھے۔
ہند کو بچانے کے لیے فلسطینی ہلال احمر کی ایک ایمبولینس روانہ کی گئی، لیکن ایمبولینس کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد امدادی کارکنوں کا رابطہ ہند اور خود ایمبولینس کے عملے سے بھی منقطع ہوگیا۔ تقریباً 12 دن بعد ہند، اس کے رشتہ داروں اور دو امدادی کارکنوں کی لاشیں علاقے سے برآمد ہوئیں۔
اسرائیلی فوج نے پہلے کہا تھا کہ اس کے فوجی اس علاقے میں موجود نہیں تھے جہاں ہند رجب ہلاک ہوئی۔ تاہم کئی ماہ تک جاری رہنے والی اندرونی تحقیقات کے بعد فوج نے بدھ کو کہا کہ اس کے فوجیوں نے ہند کو لے جانے والی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ان کی جانب بڑھ رہی تھی۔
فوج کے مطابق اس کے بعد ہند کو بچانے کے لیے آنے والی فلسطینی ہلال احمر کی ایمبولینس پر بھی ایک گولہ داغا گیا۔ فوج نے کہا کہ امدادی گاڑی کی نقل و حرکت میں رابطہ کاری سے متعلق مبینہ ناکامیوں کی تحقیقات کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد واقعے کی مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ مارچ 2025 میں ہلاک ہونے والے 15 امدادی اور طبی کارکنوں کے معاملے میں بھی مجرمانہ تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ تاہم تین دیگر واقعات، جن میں اپریل 2024 میں ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت بھی شامل ہے، کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ملی۔
ہند رجب کی ہلاکت نے عالمی سطح پر بھی خاص توجہ حاصل کی۔ اس واقعے پر بننے والی ایک فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ حاصل کیا اور اسے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔
ہند کی دادی نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان اسرائیلی عدالتی نظام پر اعتماد نہیں کرتا۔ ان کے مطابق خاندان انصاف کے لیے عالمی برادری اور بین الاقوامی انصاف کے نظام کی طرف دیکھ رہا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم یش دین کے محقق ڈین اوون کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے متعلق اسرائیلی فوجیوں کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں صرف بہت کم معاملات فردِ جرم تک پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ان ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بنتا ہے جن کے خلاف شواہد موجود ہوں۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا ہدف حماس اور حزب اللہ کے جنگجو ہیں، تاہم غزہ میں جنگ کے دوران بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 73 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں امدادی کارکن، ڈاکٹر، صحافی اور دیگر شہری بھی شامل ہیں۔
گزشتہ اکتوبر میں غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں کمی آئی، تاہم اسرائیلی حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
ہند رجب کے معاملے میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز اس واقعے کی ذمہ داری طے کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔



