چھ بادشاہوں، 28 وزرائے اعظم کا دور دیکھنے والی دنیا کی معمر ترین خاتون 117 برس کی ہوگئیں

دنیا کی معمر ترین خاتون قرار پانے والی برطانیہ کی ایتھل کیٹرہیم 21 اگست کو 117 برس کی ہوگئی ہیں۔ سالگرہ کے موقع پر ان کی زندگی ایک بار پھر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سرے کے کیئر ہوم میں رہنے والی ایتھل نہ صرف دنیا کی معمر ترین شخصیت ہیں بلکہ وہ ایک ایسی نسل کی آخری نشانی بھی ہیں جس نے گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں دنیا کو ناقابلِ یقین حد تک بدلتے دیکھا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق ایتھل کیٹرہیم 21 اگست 1909 کو ہیمپ شائر میں پیدا ہوئیں۔ وہ آٹھ بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ ان کی ایک بہن گلیڈس بابیلاس بھی 100 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہیں اور 104 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
ایتھل کی پیدائش کے وقت برطانیہ میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے میں نو برس باقی تھے۔ اس کے بعد آنے والی ایک صدی سے زائد عرصے میں انہوں نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں آنے والی بڑی سیاسی، سماجی اور سائنسی تبدیلیاں کی عینی شاہد رہیں۔
ان کی صحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 97 برس کی عمر تک خود گاڑی چلاتی رہی ہیں اور 2020 میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باوجود صحت یاب ہوئیں۔
پانچ برس کی عمر میں پہلی عالمی جنگ
جولائی 1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو ایتھل کی عمر تقریباً 5 برس تھی۔ نومبر 1918 میں جنگ ختم ہوئی تو وہ 8 سال کی ہو چکی تھیں۔
برطانیہ میں خواتین کو پہلی مرتبہ ووٹ دینے کا حق بھی 1918 میں ملا تھا۔ یعنی ایتھل کا بچپن ایسے دور میں گزرا جب جنگ، سیاست اور معاشرے میں بڑی تبدیلیاں ایک ساتھ رونما ہو رہی تھیں۔
ایٹم بم اور اسپیس مشن
امریکا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 6 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور صرف تین روز بعد جاپانی شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا۔ ایتھل اس وقت اپنی 36 ویں سالگرہ سے صرف چند روز دور تھیں۔
اسی طرح 1963 میں جب امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قتل کیا گیا تو اس وقت ایتھل کی عمر 54 برس تھی۔
جولائی 1969 میں نیل آرمسٹرانگ ’اپالو 11‘ سے باہر نکل کر چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے۔ جب دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے یہ مناظر ٹیلی ویژن پر دیکھنے میں مصروف تھے تو ایتھل اپنی 60 ویں سالگرہ منانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔
اس واقعے کے دو دہائی بعد نومبر 1989 میں جب سوویت یونین کے زوال یعنی دیوارِ برلن کے گرنے کا واقعہ پیش آیا تو ایتھل 80 سال کی تھیں۔ دیوارِ برلن مشرقی اور مغربی جرمنی کو تقسیم کرتی تھی اور اس کا انہدام سوویت یونین کے زوال کی بڑی علامتوں میں شمار ہوتا ہے۔
چھ بادشاہوں اور 28 وزرائے اعظم کا دور
ایتھل کی طویل زندگی کا ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ وہ 6 برطانوی بادشاہوں کے ادوار دیکھ چکی ہیں۔ جب وہ پیدا ہوئیں تو اس وقت ایڈورڈ ہفتم تخت نشین تھے۔
ایڈورڈ ہفتم کے بعد جارج پنجم، ایڈورڈ ہشتم، جارج ششم، ملکہ الزبتھ دوم اور اب کنگ چارلس سوم برطانیہ کے سربراہِ مملکت ہیں۔ ایتھل کیٹرہیم کو برطانیہ کی تاریخ میں ایڈورڈ ہفتم کے دور کی آخری زندہ رعایا بھی سمجھا جاتا ہے۔
ان کی زندگی میں درجنوں وزرائے اعظم ملک کا نظام چلانے کے لیے ’10 ڈاؤننگ اسٹریٹ‘ آتے اور جاتے رہے ہیں۔ جب وہ پیدا ہوئیں تو اس وقت لبرل پارٹی کے ہربرٹ ہنری کو اقتدار سنبھالے ایک سال ہوا تھا۔
ان کے بعد ڈیوڈ لائیڈ جارج، وِنسٹن چرچل، مارگریٹ تھیچر، ٹونی بلیئر، بورس جانسن، رشی سونک، کیئر اسٹارمر اور اینڈی برنہم تک 28 وزرائے اعظم شامل ہیں۔ اگرچہ اس دوران بعض شخصیات دو مرتبہ اس منصب پر فائز رہے۔
زندگی کے نئے تجربات
ایتھل کا کہنا ہے کہ 117 سال کی عمر صرف ماضی کی یادوں کا نام نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال میں بھی انہوں نے زندگی میں کئی ایسے مشاہدے کیے جو ان کے لیے بالکل نئے تھے، جس میں ’لاما‘ کو ہاتھ لگانا اور کنگ چارلس کا ہاتھ تھامنا شامل ہے۔
گزشتہ سال 116 ویں سالگرہ کے فوراً بعد کنگ چارلس نے ان سے کیئر ہوم میں ہی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران ایتھل نے کنگ چارلس کو 1969 کی اس تقریب کی یاد دلائی جب انہیں محض 20 برس کی عمر میں ’پرنس آف ویلز‘ بنایا گیا تھا۔
ایتھل نے کنگ چارلس کو مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس وقت لڑکیاں آپ کی دیوانی تھیں اور آپ سے شادی کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔‘
زندگی کی حسین یادیں
ایتھل کی زندگی صرف تاریخی واقعات کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس میں کئی حسین یادیں اور چیلنجز بھی شامل رہے ہیں۔ وہ صرف 18 برس کی عمر میں اکیلے تین ہفتوں کا بحری سفر کرکے بھارت پہنچیں، جہاں انہوں نے ایک فوجی خاندان کے بچوں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا۔
تین سال بعد 1931 میں وہ برطانیہ واپس لوٹیں۔ ایک دعوت میں ان کی ملاقات نارمن کیٹرہیم سے ہوئی اور 1933 میں دونوں نے شادی کرلی۔ ان کے شوہر رائل آرمی میں لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ دونوں ہانگ کانگ اور جبرالٹر سمیت مختلف مقامات پر رہائش پذیر رہے۔ ہانگ کانگ میں ایتھل نے ایک نرسری بھی قائم کی جہاں وہ بچوں کو انگریزی، دستکاری اور کھیل سکھاتی تھیں۔
جبرالٹر میں ہی ان کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں جو بعد میں انتقال کر گئیں۔ ان کے شوہر بھی 1976 میں وفات پا گئے۔ ایتھل گزشتہ 50 برس سے زیادہ عرصے سے سرے کے کیئر ہوم میں ہی مقیم ہیں۔
لمبی عمر کا راز کیا ہے؟
ایتھل سے جب ان کی غیر معمولی صحت اور لمبی زندگی کا راز پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کبھی کسی سے بحث نہیں کرتیں، دوسروں کی بات توجہ سے سنتی ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتی ہیں۔‘
2020 میں، جب وہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہوئیں تو بی بی سی ریڈیو کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ہمیشہ زندگی کے اچھے اور برے دونوں حالات کو قبول کیا ہے اور انہیں کبھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا‘۔ ان کے نزدیک زندگی میں سب سے اہم چیز خاندان ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ یادیں میرا سب سے اہم اثاثہ ہیں کیوں کہ مادی چیزوں کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہتی۔‘
ایتھل اس وقت دنیا کی زندہ معمر ترین شخصیت ہیں لیکن عمر رسیدہ ترین انسان کا ریکارڈ آج بھی فرانسیسی خاتون ژاں کالمان کے پاس ہے، جنہوں نے 122 سال اور 164 دن کی عمر گزارنے کے بعد 1997 میں وفات پائی تھی۔ کالمان بھی طویل عمر کے باوجود حیران کُن صحت رکھتی تھیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ 117 برس کی عمر تک سگریٹ نوشی کرتی رہیں۔
دنیا کے معمر ترین مرد کا ریکارڈ جاپان کے جیروئیمون کیمورا کے پاس ہے، جو 2013 میں 116 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے دھوپ میں وقت گزارنے اور ہلکی غذا کے استعمال کو اپنی لمبی عمر کا راز بتایا تھا۔
ایتھل کیٹرہیم 117 برس کی عمر میں بھی پُرعزم اور پُرامید ہیں۔ اپنی سالگرہ پر انہوں نے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو خوشی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ اگلا سال ان کے لیے کون سے نئے تجربات لے کر آتا ہے۔



