انٹرنیشنل

جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ جاسوسی اور غداری کے الزامات میں گرفتار

جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ اگست ہیننگ کو جاسوسی، غداری اور ایک غیر ملکی قوت کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا۔

جرمن فیڈرل پراسیکیوٹر آفس کے مطابق اگست ہیننگ 1998 سے 2005 تک جرمن فیڈرل انٹیلی جنس سروس ‘بی این ڈی’ کے سربراہ رہے ہیں اور اس کے بعد سے وہ بطور پرائیویٹ کنسلٹنٹ کام کر رہے تھے۔

پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے لیے ’معلومات کا تجزیہ‘ کرنے کی غرض سے خفیہ معلومات کا استعمال کیا اور ایک دوسری غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے ساتھ رابطے میں رہے تاہم تفتیش کاروں نے تاحال یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس میں کون سی غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس نے بی این ڈی کے ایک سابق اہلکار مینفریڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے پیسوں کے عوض ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔ مینفریڈ ڈی پر بھی غداری کی کوشش اور جاسوسی میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اگست ہیننگ کو منسٹر کے قریب نورڈوالڈے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا جبکہ مینفریڈ ڈی کو باویریا سے حراست میں لیا گیا۔ مینفریڈ ڈی کو منگل کو جبکہ اگست ہیننگ کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جرمن انٹیلی جنس ایجنسی کو اس طرح کے سنگین تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل 2023 میں بھی روس کو ریاستی راز فراہم کرنے کے الزام میں ایک اعلیٰ انٹیلی جنس عہدے دارپر غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker