انٹرنیشنل

امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ’کافی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ’تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں‘۔

فیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے، آئی ایس پی آر

اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے‘۔

ٹرمپ نے یہ بیھ کہا کہ ’کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker