انٹرنیشنل

پینٹاگون نے اسرائیل کیجانب سے جاسوسی کے خطرے کو انتہائی بلند ترین سطح پرکر دیا

پیٹاگون کو خدشہ ہے کہ اسرائیل نے امریکی حکام کی جاسوسی بڑھادی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیٹاگون نے اسرائیل کے لیے اپنی کاؤنٹر انٹیلیجنس خطرے کی درجہ بندی کو ممکنہ حد تک بلند ترین سطح تک بڑھا دیا ہے، کیونکہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل امریکی حکام کے خلاف زیادہ جارحانہ جاسوسی سرگرمیاں کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی نے اسرائیل کی خطرے کی درجہ بندی کو انتہائی سنگین سطح پر کردیا ہے۔ اس اقدام کی بنیادی وجہ یہ خدشات ہیں کہ اسرائیل خاص طور پر سینئر امریکی حکام کی نگرانی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات، خاص طور پر ایران کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کی اندرونی مشاورت اور فیصلوں سے آگاہی حاصل کی جاسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کی اس تجزیاتی رپورٹ میں ایک سات صفحات پر مشتمل دستاویز بھی شامل ہے جس میں چند ایسے واقعات کی تفصیل دی گئی ہے جنہوں نے امریکی خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ بڑھتی ہوئی احتیاط ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختلافات اور کشیدگی رپورٹ کی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اسرائیل خاص طور پر اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ آیا ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرتے ہیں یا جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مذاکراتی حل کی طرف جاتے ہیں۔

واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے کہ اسرائیل امریکی حکام کے خلاف جاسوسی کرتا ہے۔

اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکی اداروں اور امریکی حکومتی اہلکاروں کی کسی قسم کی انٹیلیجنس جمع نہیں کرتا ، اسرائیلی انٹیلیجنس کی تمام سرگرمیاں صرف اپنے دشمنوں کے خلاف ہوتی ہیں، اپنے اتحادیوں کے خلاف نہیں، اس کے برعکس کسی بھی دعوے کی بنیاد یا تو غلط معلومات ہیں یا سیاسی مقاصد۔”

دوسری جانب پینٹاگون نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker