
آئی سی سی نے لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دونوں وینیوز کو ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا۔
آئی سی سی کے مطابق انگلینڈ، نیوزی لینڈ ٹیسٹ اور پاکستان، آسٹریلیا تیسرے ون ڈے کی پچز پر میچ ریفریز نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
لارڈز ٹیسٹ کے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کے مطابق لارڈز کی پچ پر غیر معمولی سیم موومنٹ اور غیر متوقع باؤنس سے بیٹ اور بال کا توازن متاثر ہوا۔
گریم لا بروئے کی رپورٹ کے مطابق قذافی اسٹیڈیم کی پچ سست اور کم باؤنس والی تھی جس کی وجہ سے رنز بنانا مشکل رہا، پچ ون ڈے کرکٹ کے معیار پر پوری نہیں تھی، اسپنرز کو ابتدا ہی سے مدد ملتی رہی۔
آئی سی سی نے ای سی بی اور پی سی بی کو رپورٹس ارسال کر دی ہیں اور اپیل کے لیے 14 روز کی مہلت دی ہے۔
خیال رہےکہ لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ موجود نہیں تھا۔
آئی سی سی قوانین کے مطابق غیر تسلی بخش پچ پر ایک اور ناقابل کھیل پچ پر تین ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ 6 ڈی میرٹ پوائنٹس پر وینیو ایک سال اور 12 ڈی میرٹ پوائنٹس پر 2 سال کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہوسکتا ہے۔



