کیا ایک دن کی صفائی دنیا بدل سکتی ہے۔۔۔؟

ماحولیاتی آلودگی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ کچرا ہے۔ دنیاصرف نظر آنے والے کچرےکونقصان دہ سمجھتی ہے جبکہ ڈیجیٹل کچرا بھی ماحول کوآلودہ کرنےکاسبب بن رہاہے۔ ”ڈیجیٹل کچرا“یعنی فضول ای میلز، غیرضروری پرانی فائل و فولڈرز اورکلاؤڈ ڈیٹا شامل ہے۔ جسے ڈیلیٹ کرنے سے ڈیٹا سینٹرز کی بجلی اورکاربن کےاخراج سے ہونے والی آلودگی کم کیا جاسکتاہے ۔
عالمی یوم صفائی، ایک ایسا عالمی دن جس میں دنیا بھر سے رضاکاراپنے اطراف کا کچراصاف کرکےیہ دن مناتے ہیں۔ کیا یہ ایک دن کا کام ہے۔۔۔؟
انسانوں کی اس دنیا میں یہ دن منانے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔۔؟ ایسا کیا ہوا کہ 2008 میں یورپ کے ایک چھوٹے ملک ایسٹونیا (Estonia)کے پچاس ہزار شہریوں نے محض 5 گھنٹوں میں اپنے ملک کو غیر ضروری کچرے سے صاف کردیا تھا۔
صفائی کو عالمی دن میں منانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ کچرے سے پیدا ہونے والی آلودگی غیر محسوس طریقے سے دنیا کی سب سے بڑی ماحولیاتی اور معاشی بحران بن چکی تھی۔ جس پر قابو پاناحکومت کے بس میں نہیں رہا تھا۔ اس دن کی بنیادی وجوہات میں پہلی وجہ پلاسٹک اور کچرے کی ذیادتی ہے۔ کچھ سالوں سے پلاسٹک کی ایسی اشیاء کا بننا جو کہ بس ایک دفعہ استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اسے کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ کچرا دنیا بھر میں اتنی تیزی سے بڑھا کہ حکومت کے لیے اس کوصاف کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ سب دریا، سمندر، ندی، نالوں میں ڈالنے سے سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچنا شروع ہوگیا۔ دوسری وجہ دنیا کے اکثر ممالک خاص طور پر ترقی پذیر اور ذیادہ آبادی والے ملکوں میں حکومتی سطح پر اس کو حفاظتی اصولوں پر تلف کرنے کیلئے وسائل کی کمی تھی ۔اس مقصد کیلئے عام شہریوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تیسری وجہ ماحول صاف ستھرا رکھنے کیلئے شعور کی کمی تھی سب افراد کو یہ احساس دلانا کہ صرف گھر صاف کرنے سے ذمہ داری ادا نہیں ہوتی ہے اطراف کی جگہیں ( محلہ، سڑکیں، تفریحی مقامات و غیرہ) بھی صاف رکھنا ضروری ہے۔ اگر کچرا پھیلانے کا سبب ہم بن رہے ہیں تو اس کو سمیٹنے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔ چوتھی وجہ کچرا بننے کے اسباب کا ڈیٹا جمع کرنا اور ان کو روکنے کیلئے اس ڈیٹا کی بنیاد پر ٹھوس اقداما ت کرنا ہے۔ مختصر یہ کہ عالمی یوم صفائی منانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ کچرا اٹھانے کے کام کو ایک عالمی مہم بناکر لوگوں کو کچرا پھینکنے سے روکا جاسکے۔
عالمی یوم صفائی 20 ستمبر کو اقوام متحدہ کے تحت منایا جا تا ہے۔جس میں دنیا بھر میں 190 سے زائد ممالک میں 13 کروڑ سے زیادہ رضاکار اس میں حصّہ لیتے ہیں۔ اس دن صرف زمین سے کچرا صاف نہیں کیا جاتا بلکہ” ڈیجیٹل کچرا “ بھی صاف کیا جا تا ہے۔
آپ جانتے ہیں کے کچرا پیدا ہونے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ بنتا ہے کےکچرا تلف کیسے کیا جارہا ہے اور اس میں کیا لاگت آتی ہے؟ اگر کچرے کا شماریاتی جائزہ لیا جائے تو اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سالانہ 2.1 ارب ٹن بلدیاتی کچرا پیدا ہوتاہے۔ اگر اس کی روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے تو 2050 تک اس کی شرح 3.8 بلین ٹن تک چلی جائے گی۔ اس کچرے کو سنبھالنے اور اس کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کیلئے 250 بلین ڈالرز کا خرچہ آتا تھا لیکن اب چونکہ کچرا بھی سالانہ بڑھ رہا ہے تو اخراجات میں بھی اضافہ ہورہا ہے رپورٹ کے اندازے کے مطابق 2050 تک یہی اخراجات بڑھ کر 640.3 بلین ڈالرز تک پہنچ جائیں گے۔ یہ اعداد و شمار یو این ای پی کی بنیادی گائیڈ لائنز اور اقوام متحدہ کے ایس ڈی جی ٹارگٹ 11.6 کے ڈیٹا سے ہیں، جس کے مطابق دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ (تقریباً 2.7 بلین) افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں کچرا جمع کرنے کا بنیادی بلدیاتی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو یہاں سالانہ 48.5 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے اس مقدار میں ہر سال 2.4 فیصد مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ایک اوسط پاکستانی شہری یومیہ 0.283 سے 0.612 کلوگرام کچرا پیدا کرتا ہے۔ اگر بڑے شہروں کی صورتحال دیکھیں تو کراچی میں روزانہ 12,000 سے 15,000 ٹن کچرا بنتا ہے (جو ملک میں سب سے زیادہ ہے) طبی فضلہ اس کے علاوہ ہے۔ جبکہ لاہورمیں روزانہ تقریباً 6,000 سے 7,500 ٹن کچرا بنتا ہے۔
اس کچرے کو صرف اٹھانے اور ڈمپنگ پوائنٹس تک پہچانے کیلئے بلدیاتی ادارے سالانہ اربوں روپے کا بجٹ رکھتے اور خرچ کرتے ہیں۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق یہ ٹوٹل کچرے کا صر ف 50 سے 60فیصد ہوتا ہے باقی 40 فیصد کچرا سڑکوں، پلاٹس ، ندی نالوں اور سمندر میں جا کر گرتا ہے اور بارشوں میں اربن فلڈنگ اور سمندری آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے ۔ پاکستان صرف کچرا اٹھانے کی مد میں سالانہ اربوں روپے خرچ کرتا ہے، لیکن اس کچرے کو محفوظ طریقے سے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے اور اس کو ختم کرنے کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کر پاتا ہے اس کے باعث اگر معاشی بد انتظامی اور صحت کے نقصان کا تخمینہ لگایا جائے تو بجٹ اس سے کہیں زیادہ بنتاہے۔
اس سنگین مسئلے کا اصل حل کچرا سمیٹنے سے پہلے کچرا بننے سے روکنا ہے۔ اس کیلئے پانچ R پر مبنی کام کرنے ہوں گے۔پہلا Refuse (انکار کرنا )یعنی پلاسٹک سے بنی ایک دفعہ کی استعمال ہونے والی اشیاء سے منع کرنا۔ دوسرا Reduce (کمی) غیرضروری خریداری نہیں کرنا، تیسرا Reuse ( دوبارہ استعمال) روز مرہ کے کاموں کیلئے ایسی اشیاء رکھنا جنہیں بار بار ستعمال کر سکیں مثلاً کپڑے کے تھیلے اور پائیدار اشیاء، چوتھا Repurpose (نیا مقصد) یعنی پرانی اشیاء کو ری سائیکل کرنا، پانچواں Rot(کھاد بنانا) کچرے کے 60-50 فیصد نامیاتی حصے سے گھر پر ہی کھاد بنانا۔ ان سارے نکات پر اگر سب عمل کرنے لگ جائیں تو کچرے میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ترین ہے کہ دنیا سے کچرا کم کیا جاسکتا ہے مگر اسے مکمل روکا نہیں جا سکتا۔ جب کچرا جمع ہوگا تو اسے ڈمپ کرنے کیلئے سمندر یا کھلے میدان میں چھوڑنا بہت خطرناک ہے اس کے بجائے ان طریقوں پر عمل کرنا چاہئے۔ پہلا کچرے کی چھانٹی(خشک، گیلا اور خطرناک کچرا علیحدہ کرنا )، دوسرا ری سائیکلنگ ( پلاسٹ ، دھات اور شیشے کادوبارہ استعمال )، تیسرا سینٹر ی لینڈ فلز ( مٹی اور پلاسٹک تہوں کی صورت میں زمین میں دبانا تاکہ پانی آلودہ نا ہو اور میتھین گیس سے بجلی بھی بنائی جا سکے )، چوتھا ویسٹ ٹو انرجی ( کچرے کو جلا کر بجلی بنانا )۔
ان سب پر عملدرآمد سے صرف کچرا ختم نہیں ہوگا بلکہ کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج کم ہوگا، زمین کے نیچے پینے کا پانی بیماریوں پھیلانے والے جراثیم سے محفوظ رہے گا اور کچرا زہر بننے کے بجائے بجلی اور قدرتی کھاد کی شکل میں قوم کیلئے راحت بن جائے گا۔
یہ دن صرف کچرا اٹھانے کا نہیں بلکہ سوچ تبدیل کرنے کا دن ہے۔ جو شخص اس دن اپنے ہاتھ سے کچرا اٹھائےگا وہ آئندہ کچرا پھیلانے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ جب 13 کروڑ افراد ایک ہی دن ایک ہی مقصد کیلئے نکلتے ہیں تویہ ساری دنیا کے لوگوں کیلئے بہت بڑا پیغام ہے کے ماحولیاتی آلودگی کسی ایک فرد، ،شہر یا ملک کا مسئلہ نہیں ہے یہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس بحران سے سب متاثر ہوتے ہیں۔



