شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز

شام نے حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے یمن میں فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
3 امریکی حکام نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو بتایا ہے کہ سعودی عرب اور شام یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے شامی فوجی دستے بھیجنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
شامی صدر احمد الشرع اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق اگرچہ اس معاملے پر زیادہ تر بات چیت سعودی عرب اور شام کے درمیان ہو رہی ہے، تاہم دونوں ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ سے بھی مشاورت کی ہے اور امریکا اصولی طور پر ایسے اقدام کی مخالفت نہیں کرتا۔
معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟
سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے ہفتے کے اختتام پر حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی شروع کی تھی۔ اس آپریشن کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں، جن میں دارالحکومت صنعا اور اہم باب المندب آبنائے بھی شامل ہے، کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ یمن میں شامی فوج بھیجنے کا معاملہ رواں ہفتے کے آغاز میں ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شام کے صدر احمد الشرع کے درمیان ملاقات کے دوران زیرِ بحث آیا تھا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب چاہتا ہے کہ احمد الشرع شامی فوجی یمن بھیجیں تاکہ یمنی فورسز کو تقویت دی جا سکے، کیونکہ وہ حوثیوں کے مقابلے میں کم تربیت یافتہ ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق احمد الشرع نے ابھی اس فیصلے کی منظوری نہیں دی، تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ شامی صدر سعودی درخواست قبول کر لیں گے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا شامی فوج کو یمن بھیجنے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اس اقدام سے امریکا کو براہِ راست زیادہ گہرائی میں شامل ہوئے بغیر سعودی حمایت یافتہ حوثی مخالف کارروائی کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا یہ بھی خیال ہے کہ یمن میں شامی فوجیوں کی تعیناتی سے امریکا کے دو اتحادیوں، سعودی عرب اور شام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
دو امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سے بھی شامی فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے طریقہ کار پر مشاورت کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس اور سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی سفارتخانے اور شامی وزارت خارجہ کے ترجمانوں نے بھی تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
کتنے شامی فوجی یمن بھیجے جا سکتے ہیں؟
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک ذرائع نے بتایا کہ شامی فوج یمن میں 10 ہزار سے 20 ہزار فوجی بھیج سکتی ہے۔
زیرِ غور یونٹس میں دمشق کے قریب تعینات 90ویں ڈویژن اور جنوبی شام میں السویداء کے قریب موجود 84ویں ڈویژن شامل ہیں۔



