حوثیوں کے حملے کا خطرہ، سعودی ولی عہد کی نقل و حرکت بنکروں والے محلات تک محدود

حوثیوں کے حملے کا خطرہ، سعودی ولی عہد کی نقل و حرکت بنکروں والے محلات تک محدود، انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ کم ہونے لگا:
🔶 سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے میں کمی نے ان کی دفاعی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
🔶 رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت نقل و حرکت کی جا رہی ہے۔
🔶 سعودی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ولی عہد کے ہمراہ خصوصی طور پر منتخب سیکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں، جبکہ ان کی نقل و حرکت بنکروں سے محفوظ بنائے گئے محلات کے درمیان محدود اور انتہائی محتاط انداز میں جاری ہے۔
🔶 حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ مسلسل کم ہو رہا ہے، جس کے باعث سعودی عرب کے وسیع رقبے اور اہم تنصیبات کا فضائی دفاع کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
🔶 امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی حکام اہم توانائی کی تنصیبات اور محلات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے میزائل دفاعی بیٹریاں مختلف مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، تاکہ خطرے سے دوچار اہم مقامات کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
🔶 رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کے معاشی منصوبوں پر بھی شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔
🔶 سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے اور اسے متنوع بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم موجودہ سیکیورٹی خطرات اور دفاعی اخراجات میں اضافے کے باعث ان منصوبوں کی راہ میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔



