وہ ملک جہاں بجلی قیمتوں میں اضافے کے باعث سولر پینلز شادی کے تحفے پر دیے جانے لگے

سولر پینلز کا استعمال کافی عام ہو چکا ہے مگر ایک ملک میں تو اسے شادی کے تحفے کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔
جی ہاں واقعی سولر پینلز، انورٹر اور لیتھیم بیٹریز کو افریقی ملک نائیجریا میں شادی کے تحفے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس افریقی ملک میں پٹرول کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ بجلی کی سپلائی گھٹ رہی ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نائیجریا میں نوبیاہتا جوڑوں کو تحفے میں سولر پینلز، انورٹرز اور لیتھیم بیٹریز کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوبیاہتا جوڑوں کی جانب سے سولر سسٹمز کو روایتی تحائف جیسے گھریلو اشیا اور فرنیچر کے ساتھ شادی کی رجسٹریشن کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
اس سے عندیہ ملتا ہے کہ نائیجریا میں سولر پینلز کو گھریلو انفرا اسٹرکچر میں ایک ضروری اضافہ تصور کیا جانے لگا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے، لوڈشیڈنگ اور سستے چینی ساختہ سولر ٹیکنالوجی نے زیادہ سے زیادہ نائیجرین خاندانوں کو سولر پاور کی جانب جانے پر مجبور کیا ہے۔
اس کے باعث ماحول دوست توانائی پر مبنی سولر پینلز خاندانی زندگی کا لازمی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
درحقیقت نائیجریا کے دارالحکومت لاگوس میں سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریز کی طلب جنریٹرز، ٹیلی ویژنز اور ریفریجریٹرز سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بیشتر نائیجرین جوڑوں کی نظر میں سولر سسٹمز کی تنصیب شادی کے بعد نئی زندگی کے آغاز کی بنیاد ہے۔
اس طرح کے سسٹم کی بدولت انہیں مہنگے جنریٹرز پر انحصار نہیں کرنا پڑتا اور لوڈشیڈنگ کے دوران ضروری برقی مصنوعات کام کرتی رہتی ہیں۔



