
کراچی: افتتاح کی کئی تاریخیں گزرنے کے بعد بھی تکمیل میں مسلسل تاخیر کا شکار کریم آباد انڈر پاس میں حالیہ بارشوں سے پانی بھرگیا جس سے منصوبے کے ٹھیکیدار کو مزید تاخیر ایک بڑا اور معقول بہانا مل گیا ہے۔
موجودہ صورت حال میں مستقبل قریب میں کریم آباد انڈر پاس کے افتتاع کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق برساتی پانی نکالنے کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے اور ہر ممکن کوشش جاری ہے کہ کریم آباد انڈر پاس کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچایا جائے، اب اس کام کی نگرانی یومیہ بنیادوں پر کی جائے گی۔
کریم آباد انڈر پاس پر اپریل 2023 میں ایک ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے کام شروع ہوا تھا جو مسلسل تاخیر کی وجہ سے بڑھ کر 3 ارب 80 لاکھ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
کام کی تکمیل کیلئے اپریل 2025 تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، بعد ازاں اگست میں افتتاح کا کہا گیا اور پھر حالیہ دنوں میں 30 ستمبر کو اسے ٹریفک کیلئے کھولے جانے کا اعلان سامنے آیا مگر تاحال اس کے ایک ٹریک کی کھدائی کا کام ہی مکمل نہیں ہوا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق کام کی سست روی اور اب پانی بھر جانے سے صورتحال مزید تاخیر کا شکار نظر ارہی ہے، کام کی سست رفتاری کے حساب سے اندازہ لگائیں تو یہ کام اگلے سال کے 30 ستمبر تک ممکن ہو سکے گا۔
دکانداروں کے مطابق گزشتہ دو سال سے مینا بازار مارکیٹ اور اطراف کی مارکیٹوں میں کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ راستے اور پارکنگ نہ ہونے کی وجہ سے شہری خریداری کے لیے پہنچ ہی نہیں سکتے جبکہ انڈر پاس کی تعمیر کی وجہ سے 2 گیس اسٹیشن اور دیگر درجنوں مارکیٹیں اور دکانیں بند ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دکانوں کے کرائے اور بجلی کے بل پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے اور کئی لوگ کام چھوڑ کر جا چکے ہیں۔



