صحت

اچھی اور صحت مند زندگی کیلئے ناشتہ کرنیکا مثالی وقت کیا ہے؟

ستمبر 2025 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ صبح دیر سے ناشتہ کرنے سے صحت متاثر ہوتی ہے جبکہ زندگی کی مدت بھی گھٹ سکتی ہے۔

ویسے تو معمول سے پہلے ناشتہ کرنے سے فوراً ہی صحت اور زندگی پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے، مگر اس وقت کا تسلسل برقرار رکھ کر جسمانی وزن اور بلڈ شوگر کو صحت مند سطح پر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

ناشتے کا وقت کیوں اہم ہے؟

اس تحقیق میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 3 ہزار افراد کو شامل کیا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تاخیر سے ناشتہ کرنے سے قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ناشتے میں ہر گھنٹے کی تاخیر سے قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

جینز، ناشتے تیار کرنے میں سستی، بیماری اور نیند کے مسائل ناشتے کے اوقات میں تبدیلی میں کردار ادا کرنے والے عناصر ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ناشتے کا وقت معمر افراد میں صحت کے مسائل کے خطرے کا تعین کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے، مگر اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ناشتے کے وقت اور لمبی عمر کے درمیان تعلق کو سمجھا جاسکے۔

الاباما یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن رابرٹ مینکووسکی (وہ اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے) نے بتایا کہ بدقسمتی سے تحقیق کے نتائج میں ہم یہ نہیں جان سکے کہ ناشتے کا وقت خطرے بڑھانے والی وجہ ہے یا یہ بڑھتی عمر کا اثر ہے۔

تو جلد ناشتہ کرنا کیوں بہتر ہے؟

اس تحقیق میں ناشتے کے مثالی وقت کا تعین نہیں کیا گیا تھا، مگر بیشتر طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بیدار ہونے کے بعد ایک یا 2 گھنٹے میں ناشتے کرلینا چاہیے تاکہ جسم کو دن بھر کے کاموں کے لیے ایندھن میسر آسکے۔

اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ Dietetics کی ترجمان ڈاکٹر اینجل پلانیلز نے بتایا کہ صبح اٹھ کر جلد ناشتہ کرنے سے بیشتر افراد کا میٹابولک توازن بہتر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بیدار ہونے کے بعد 2 گھنٹے کے اندر ناشتہ کرنے سے بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے، میٹابولزم کو متحرک کرنے اور جسمانی گھڑی کے افعال کو درست رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ جلد ناشتے کرنے سے بلڈ گلوکوز کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے جبکہ جی ایل پی 1 نامی ہارمون کا کھانے کے بعد ردعمل بڑھ جاتا ہے۔

یہ ہارمون قدرتی طور پر کھانے کے بعد جسم میں خارج ہوتا ہے تاکہ کھانے کی اشتہا کو کنٹرول کرسکے، نظام ہاضمہ کو معاونت مل سکے جبکہ بلڈ شوگر کی سطح مستحکم رہ سکے۔

ناشتے کے یکساں وقت کا تسلسل کنجی ہے

جب ناشتے کے بہترین وقت کے بارے میں سوچا جاتا ہے، تو تسلسل کو برقرار رکھنا کنجی ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پاپولیشن ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میتھیو لانڈرے نے بتایا کہ ناشتے کا بہترین وقت پورے ہفتے ایک ہی وقت ناشتہ کرنے کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر بیدار ہونے کے بعد جتنی جلدی آپ ناشتہ کرتے ہیں، زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک ہی وقت ناشتہ کرنے سے جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

جانوروں اور انسانوں پر ہونے والے دیگر تحقیقی کام سے عندیہ ملتا ہے کہ ناشتے کے وقت کا تسلسل صحت مند جسمانی گھڑی کو معاونت فراہم کرتا ہے۔

جسمانی گھڑی کے افعال متاثر ہونے سے لوگوں کے لیے توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہوتا ہے، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دماغی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

پروفیسر میتھیو نے بتایا کہ جب آپ روزانہ ایک ہی وقت ناشتہ کرتے ہیں، تو آپ اپنی اندرونی گھڑی کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ یہ بیدار ہونے کا وقت ہے اور یہ کام پر جانے کا وقت ہے۔

تو کیا آپ کو جلد ناشتہ کرنا شروع کردینا چاہیے؟

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ بیدار ہونے کے بعد 2 گھنٹے کے اندر ناشتہ کرنے سے بلڈ گلوکوز کو کنٹرول میں رکھنے، صحت مند اندرونی جسمانی گھڑی اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بیدار ہوتے ہی ناشتہ کرنا مشکل لگتا ہے تو کھانا شروع کرنے سے قبل خود کو 60 سے 90 منٹ دیں، جس سے جسم کو بیدار ہونے کا وقت ملے گا اور 2 گھنٹے کے اندر ناشتہ مکمل ہو جائے گا۔

بیدار ہوتے ہی بھوک کا احساس نہ ہونا نارمل ہوتا ہے، مگر کھانے کے لیے بہت زیادہ انتظار مت کریں۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker