پاکستان

قائداعظمؒ محمد علی جناح : ایک سحر انگیز شخصیت

عمل، مضبوط کردار، جدوجہد اور استقامت کی داستان
اسلامیانِ ہند کے لئے 25دسمبر1876وہ یوم مبارک تھا جب کہ قائداعظم ؒ کی ولادت ہوئی۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ آگے چل کر یہ ننھی سی جان کس شان سے ملت کے آسمان پر آفتاب و مہتاب ہو کر چمکے گی اور وہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک عظیم لیڈر کہلائے گا ۔ قومیت کا وہ تصور جسے مدتوں سے ایک خیال محال سے بڑھ کر وقعت حاصل نہ تھی اب میدان عمل میں آئے گا اور اپنی قوت و جبروت کا لوہا یارو اغیار سب سے منوائے گا۔
محمد علی کراچی کے ایک امیر سوداگر جناح کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ محترمہ کا نام سکینہ تھا۔ آپ کی تعلیم پانچ برس کی عمر میں شروع ہوئی اور گیارہ برس بعد جب کہ آپ ابھی سولہ سال کے تھے انٹرنس کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کر لیا۔ محمد علی جناحؒ نے اپنی آئندہ روش اور تحصیلاتِ قانونی و سیاسی کا ثبوت تعلیم مدرسہ کے دوران میں ہی دینا شروع کر دیا تھا۔ ان کا یہی رجحان تھا کہ متمول باپ نے ہونہار لڑکے کی یہ فرمائش قبول کی۔’’ مجھے تعلیم قانون کے لئے انگلستان بھیج دیا جائے‘‘۔
1892ء میں انگلستان پہنچ کر محمد علیؒ’’لنکن اِن‘‘ کی قانونی درس گاہ میں داخل ہوئے اور 1896ء میں بیرسٹری کی سند حاصل کی۔
قیام انگلستان میں آپ نے مکروہاتِ مغرب سے کامل پرہیز رکھا اور تحصیل علم میں انہماک کی وہ داد دی کہ باید و شاید۔ جب آپ مطالعہ قانون سے فارغ ہوتے تو سیاسیات کو توجہ دیتے۔ پھر اس میں علم کے ہمراہ آئندہ عمل کی راہ نکالتے۔ چنانچہ آپ نے انگریز مدبرین سے ربط پیدا کیا اور ان کے ساتھ تبادلہ خیالات سے مستفید ہوتے رہے۔انہی دنوں میں ہندوستان کا وہ پارسی فرزند دادا بھائی نور وجی جو تدبر ملکی میں صاحب کمال تھا، انگلستان میں مقیم تھا۔ اور لنڈن انڈین سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے انگلستان کے ہندوستانی طلباء کے حق میں نہایت مفید کام کرتا تھا۔ دادا بھائی پارلیمان برطانیہ اور باشندگانِ برطانیہ کو نہ صرف کوائف ہند سے آگاہ کرتے رہتے تھے بلکہ انہوں نے اغراض و مقاصد ہند کی وکالت بھی اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔محمد علی جناح نے ہندوستان کے اس سپوت سے مراسم پیدا کئے۔
محمد علی جناحؒ 1896ء میں واپس ہندوستان آئے۔ مگر اب امارت کی بجائے غربت سے پالا پڑا۔ کیونکہ ان کے والد کو کاروبار میں نقصان پہنچا تھا۔ بہرحال آپ نے 1897ء میں ممبئی میں پیشہ وکالت اختیار کیا۔ اس وقت بیسویں صدی کا آغاز ہونے کو تھا۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بیسویں صدی کا دور شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کے برعکس ہندو قوم ہر معاملے میں پیش پیش تھی۔ انگریزی تعلیم کی تحصیل نجوبی اختیار کر چکی تھی اور روز بروز ترقی کر رہی تھی۔ سرکاری دفاتر پر قابض تھی۔ آسودہ حال تھی۔ ان کے ساہوکاروں کا طبقہ سود اور پھر سود در سود کے ذریعے خوب پنپ رہا تھا۔ ان کی سیاسی بیداری کا یہ حال تھا کہ کانگرس کے اکثر و بیشتر ممبر ہندو تھے اور صرف گنتی کے چند مسلمان۔ بلکہ یوں کہئے کہ کانگرس کے اندر مسلمانوں کا عنصر آٹے میں نمک کے برابر بھی مشکل سے ہی تھا۔
اس وقت مسلمان سو رہے تھے۔ ان کی غالب اکثریت کا دوسرا شغل یہ تھا کہ ابھی کھوئی ہوئی حکومت کے سوگوار تھے۔ اسے از سر نو حاصل کرنے کا تو کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔ مگر ان خوابیدگان کو خواب غفلت سے جگانے والی ہستی یعنی سرسید احمد خاں مرحوم و مغفور مصروف کار تھے۔ ان کے بنا کردہ مسلم اینگلو اورئینٹل کالج کو رونق حاصل ہو چکی تھی۔ سر سید احمد خاں مسلمانوں کو دعوت عمل دے رہے تھے اور بقول اقبالؒ پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ:
ع مسلم خوابیدہ اب ہنگامہ آرا تو بھی ہو
مگر کئی کروڑ مسلمانوں میں سے محض خال خال مسلمان انگریزی تعلیم پا رہے تھے۔ ابھی ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو انگریزی تعلیم پانے والوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔ الغرض اس وقت ہندو خوش تھے تو مسلمان ناخوش۔ ہندو امید کا دامن پکڑے راہ عمل پر گامزن تھے۔ اور مسلمان غفلت کی چادر اوڑھے سو رہے تھے اور جیسا کہ بیان کیا گیا بہت ایسے تھے کہ کھوئی ہوئی حکومت کے سوگوار تھے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا ایک بھائی مشق سیاسیات میں مشغول ہے۔ اور اگرچہ اس وقت کانگرس کو منت گزار بنا رہا ہے۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے کہ ان کو گوسارے ہندوستان کی حکومت نہیں لیکن ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک الگ ملک ملنے والا ہے۔
1900ء میں کانگرس میں شامل ہو کر محمد علی جناح نے ایک مدت تک سیاسی کام کیا اور ایسا شان دار کام، کہ کانگرس کو بھی اس کے اعتراف کے بغیر چارہ کار نہیں۔انگلستان سے واپس آنے کے بعد بھی آپ نے مسٹر دادا بھائی نوروجی سے اپنے تعلقات قائم رکھے۔ نوروجی ایک زبردست کانگرسی تھے انہوں نے اپنے اشغالِ سیاسی میں محمد علی جناحؒ کو شریک کار بنایا اور اپنا پرائیویٹ سیکرٹری مقرر کیا۔
1906ء میں کانگرس کا سالانہ اجلاس کلکتہ میں منعقد ہوا۔ اس کے صدر دادا بھائی تھے۔ اس موقع پر محمد علی جناحؒ نے ایک تقریر کی اور دلائل و براہین اور فصاحت و بلاغت کی وہ داد دی کہ کانگرس کے زعما نے خراج تحسین و آفرین ادا کیا۔ غرض کہ اس تیس برس کے نوجوان نے بڑے بڑے کہنہ مشق اور زمانہ دیدہ فاضلوں کے دلوں میں اپنی شخصیت کی دھاک بٹھا دی اور اس ایک تقریر سے ہندوستان کے عرض و طول میں شہرت حاصل کی۔
1910ء میں آپ امپریل لیجسلیٹوکونسل (وائسرائے کی مجلس قانون ساز) کے ممبر منتخب کئے گئے۔ قانون دانی اور قانون کی ترجمانی میں تو آپ شہرۂ آفاق ہو ہی چکے تھے۔ یہاں آکر قانون سازی میں بھی نام پیدا کیا۔ اور نہ صرف بحیثیت مجموعی ہندوستان کے اغراض و مقاصد کی نگہبانی کی بلکہ مسلمانوں کے خاص قومی حقوق کی بھی پاسداری اور وکالت کرتے رہے۔ ایسے کتنے ہی قانون ہیں جن کے مباحث میں آپ کی تقریر یاد گار رہیں گی۔ 1913ء میں کانگرس نے ایک وفد انڈیا کونسل کی اصلاح پر زور دینے کے لئے انگلستان بھیجا، آپ اس کے ایک ممبر تھے۔بیس برس کانگرس کی عظیم الشان خدمت کرنے کے بعد آپ 1920ء میں علیحدہ ہو گئے۔
اگرچہ آپ کانگرس کی رکنیت کے زمانے میں بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے کام میں حصہ لیتے رہے تھے اور 1916ء کے سالانہ جلسہ کی صدارت آپ ہی نے کی۔ مگر کانگرس سے مایوس اور علیحدہ ہونے کے بعد وہ مسلم لیگ کو مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ جماعت بنانے اور سب سے یہ بات منوانے میں کامل طور پر مصروف ہو گئے۔ چنانچہ مرکزی لیجسلیٹو اسمبلی جس میں مسلم لیگ پارٹی کی تشکیل و ترتیب آپ ہی کی شرمندۂ احسان ہے۔
1924ء میں آپ کی زیر صدارت آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا۔ مدعا یہ تھا کہ لیگ جو کئی سالوں سے بڑی حد تک بیکار سی ہو رہی تھی۔ اس کا از سر نو احیاء کیا جائے۔ پنجاب کے عظیم الشان مسلمان کارکن اور لیڈر اور کونسل کے وزیر سرفضل حسین نے اس اجلاس میں زبردست حصہ لیا اور محمد علی جناح نے اس وقت پابندی آئین کے مدنظر برطانوی حکومت سے یہی مطالبہ کیا کہ ہندوستان کو درجہ نو آبادیات(کینیڈا اور سائوتھ افریقہ کی مثال) دیا جائے۔ بہرکیف یہ اجلاس بہت کامیاب رہا،مگر بعد میں مسلم لیگ ایک بار پھر سو گئی۔ سالانہ اجلاس تو عموماً منعقد ہوتے رہے، مگر کوئی خاص اہم کام بن نہ پایا۔انجام کار 1933ء میں مسلمان لیڈروں کی ایک کانفرنس نے مسلم لیگ کو ایک باعمل اور کامل طور پر کارکن جماعت بنانے کا فیصلہ کیا اور محمد علی جناحؒ کو دعوت دی کہ آپ لیگ کی تنظیم و توسیع اور اسے مسلمانوں کا وسیلہ کار اور حامی کار بنانے کا کام ہاتھ میں لیں۔ آپ اس وقت انگلستان میں مستقل رہائش اختیار کر چکے تھے اور وکالت کا کام پریوی کونسل کی عدالت میں کرتے تھے، مگر آپ نے قوم کی ضرورت کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور خدمت اسلام کے لئے وطن کو مراجعت کی۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ ہندوستان کے آئین جدید کی تعمیر میں اکابرین برطانیہ اور رہنمایانِ ہند مشغول تھے۔ اس سلسلے میں گول میز کانفرنس لندن کے ایک اجلاس میں محمد علی جناح ؒ بھی نمائندہ اسلامیان ہند کی حیثیت میں شرکت کر چکے تھے، مگر جدید آئین کا حامل قانون ابھی پارلیمان انگلستان نے وضع نہ کیا تھا۔
الغرض محمد علی جناحؒ آئے اور جس زور شور سے مسلم لیگ کا کام کیا ایک دنیا پر ظاہر ہے۔ فی الحقیقت مسلمانوں پر یہ اللہ کا کرم تھا کہ انہیں ایک بڑا اور سحر انگیزقائد ملا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کیا ہوتا، مگر قیاس غالب ہے کہ مسلمانان ہند کتنے ہی کمتر رہنمائوں کے زیر اثر اتنے ہی حصوں میں منقسم رہتے۔ اور جو وقار، جو حیثیت ، جو اثر و رسوخ، جو قوت مسلمانوں کو اپنے محبوب قائد کی سربراہی میں حاصل ہوا اور جس کا وسیلہ مسلم لیگ کی پائیدار تنظیم ہے۔ ہم اس سے محروم ہی رہتے۔ مسلم لیگ پارٹی کی طاقت کے متعلق یہ بات بلا خوف تردید اور بلا شائبہ مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ وہ محمد علی جناح کی ساختہ و پرداختہ اور آپ ہی کی حیرت انگیز شخصیت کی مظہر ہے۔
اصول ارتقاء کا یہ ایک جزو ہے کہ اپنے ماحول کے مطابق کام کرنے والا کامیاب ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان اپنے ماحول کی مخلوق ہے۔ عام کیفیت تو یہ ضرور ہے، مگر انسانی تاریخ اس امر کا ثبوت بھی مہیا کرتی ہے کہ بعض بندگانِ خدا نے ماحول جیسی اٹل شے کو بھی بدل دیا اور اسے اپنی راہ پر لے آئے۔ محمد علی جناح ؒ ایسے ہی زعماء میں سے ہیں۔ ماحول کا بس چلے تو پاکستان کے خواب و خیال تک ذہن میں نہ آنے دے۔ مگر قائداعظمؒ کا فیصلہ تھا کہ پاکستان ایک خیال نہیں ایک امر واقعہ ہے جو عنقریب کامل طور پر وجود میں آ جائے گا۔ اور خود مسلمان اسے ایک جیتی جاگتی، چلتی پھرتی اور زور سے زندہ رہنے والی مملکت بنائیں گے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک نیا اسلامی ملک وجود میں آ یا اوراللہ کی جانب سے مسلمانوں کو پاکستان کی صورت ایک عظیم تحفہ عطا کیا گیا۔

یہ جاننا ضروری ہے!
بانی پاکستان حضرت قائداعظم ؒ کے اقوال و ارشادات بحیثیت مجموعی کیا ہیں؟ اس کا جاننا سب کے لئے ضروری ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ:
1-موجودہ مغربی طرز کی جمہوریت ہندوستان کے لئے غیر موزوں ہے۔
2-مجلس مشاورت یا مجلس قانون ساز میں ممبروں کی رائے شماری کافی نہیں، ان کے ہوش و خرد کا اندازہ بھی لازم ہے اور یہ ضروری نہیں کہ اکثریت کی رائے صحیح ہو۔
3-ہندئووں اور مسلمانوں کے مابین اتحاد تو ہونے سے رہا۔ تعاون ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ دونوں کو اپنے اپنے وطن میں الگ الگ حکومت کرنے کا موقع دیا جائے۔
4-مسلمان ایک قوم ہیں نہ کہ اقلیت اور اس لئے جہاں جہاں ان کی اکثریت ہے۔ وہاں ان کو اپنی خود مختار ریاستیں قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
5-ہندوستان حکومت برطانیہ سے جبھی مخلصی پا سکتا ہے کہ اہل ہنود ان کو پاکستان کی تعمیر سے نہ روکیں۔
6-مسلمان پاکستان بنا کر رہیں گے۔ وہ ہندئووں کی مدد کے بغیر بلکہ ان کی مزاحمت کے باوجود اکیلے اس کام کے اہل ہیں۔
7-کانگرس خالصتاً ہندو جماعت ہے۔ سارے ہند کی نمائندگی کا دعویٰ بیہودہ ہے اور دیانت داری کے خلاف ہے۔
8-مسلم لیگ اسلامیان ہند کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔
9-پاکستان میں رہنے والی ہندو اقلیتوں سے منصفانہ بلکہ فیاضانہ سلوک کیا جائے گا۔
10-ہندئووں کے ہندوستان میں رہنے والی مسلم اقلیتیں یہاں تک پاکستان کی فدائی ہیں کہ اگر ان سے ناروا سلوک کا بھی اندیشہ ہو تو وہ ہر قربانی اور تکلیف کے لئے ابھی سے تیار ہیں۔
11-قائداعظمؒ فرماتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ پاکستان کسی قسم کی سودا بازی پر مبنی نہیں۔ مخالفین کو ایسا وہم فاسد اپنے دل سے نکال دینا چاہئے اور خبردار رہنا چاہئے کہ مسلمانان ہند اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے لڑنے مرنے کو تیار ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker