کوئٹہ: ایرانی پیٹرول مہنگا، پاکستانی پیٹرول ناپید؛ کوئٹہ کے 71 پمپس پر بحران، شہر میں مزید قلت کا خدشہ
شہر کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کی دستیابی ایک بار پھر مسئلہ بن گئی ہے، جہاں متعدد پیٹرول پمپس پر پیٹرول ناپید ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق اندرونِ شہر، سلیم کمپلیکس، کواری روڈ، سریاب روڈ اور گرد و نواح کے علاقوں میں واقع متعدد پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب نہیں، جس کے باعث گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مالکان کو طویل فاصلے طے کرکے ایندھن حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔
بولتا بلوچستان میڈیا کے ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں کم از کم 71 پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس صورتحال پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض پمپس پر پیٹرول کی عدم دستیابی سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وہاں ایرانی پیٹرول کی فروخت پر انحصار کیا جا رہا تھا، جبکہ حکومت پہلے ہی ایرانی پیٹرول کی خرید و فروخت کے خلاف اقدامات کر چکی ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے بعض پیٹرول پمپس پر پیمائش کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کئی مقامات پر پیٹرول کی مقدار مقررہ پیمانے کے مطابق فراہم نہیں کی جاتی۔
بولتا بلوچستان میڈیا کے ذرائع کے مطابق متاثرہ شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کو باقاعدہ فراہمی یقینی بنانے کا پابند بنایا جائے اور پیمائش کے نظام کی بھی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے



